تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 148
خطاب فرمودہ 17 اکتوبر 1982ء - تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم لیکن ہم سچائی کے اظہار سے باز نہیں آئیں گے۔ہم وہ کمزور جماعت ہیں، اتنی کمزور جماعت کہ جن کو اپنے ملک میں بھی آزادی ضمیر کا حق نہیں ہے۔ہمیں اپنے آپ کو مسلمان کہنے کا حق نہیں دیا جا رہا۔یہ نہ سمجھنا کہ بڑے بڑے اسلامی ممالک اور بڑے بڑے طاقتور ممالک کے نمائندے بن کر آئے ہیں، اس لئے تم عزت کا سلوک کرو۔ہم تو خاکسار لوگ ہیں ، ہماری کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ہم تو بے بس اور بے چارے لوگ ہیں، اس لئے یہ سمجھ کر ہم سے جو سلوک کرنا ہے، وہ کرو۔لیکن دنیاوی حکومتوں کا نمائندہ سمجھ کر کوئی سلوک نہ کرنا۔ہم صرف اور صرف اپنے رب کے نمائندے ہیں اور صرف اور صرف حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نمائندے ہیں۔پس یہ اسی رب کے جلوے تھے، جس نے دلوں میں یہ پاک تبدیلی پیدا کی۔اس محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسن تھا، جس نے دل جیتے ہیں۔ہمارا اس میں کوئی دخل نہیں۔ہر جگہ پیار اور محبت کے آثار حیرت انگیز طور پر دیکھنے میں آئے۔یہاں تک کہ جو احمدی باہر سے ملنے آتے تھے ، وہ حیران اور ہرکا بکا رہ جاتے تھے۔اور بیان کرتے کرتے بعض دفعہ درد کی وجہ سے ان کی آواز میں روندھی جاتی تھیں کہ ہمیں یہ سمجھ نہیں آرہی کہ یہ ہم سے ہو کیا رہا ہے؟ افریقوں نے یہی کہانی بیان کی ، انڈو نیشینز نے یہی کہانی بیان کی، جرمنوں نے یہی کہانی بیان کی اور انگلستان سے آنے والوں نے یہی کہانی بیان کی۔امریکہ سے آنے والوں نے ، کینیڈا سے آنے والوں نے بھی۔غرض جس نے بیان کیا، یہی بیان کیا کہ جب سے ہم پہنچے ہیں ، ایسی محبت کا سلوک ہو رہا ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ ہم سے ہوا کیا ہے؟ گویا کہ ہم شاہی مہمان ہیں۔ایک ہوٹل میں احمدی ٹھہرے ہوئے تھے ، وہاں کے دوست آئے۔انہوں نے کہا، ہمیں تو سمجھ نہیں آتی ہوا کیا ہے؟ ہوٹل والے نے اپنا سارا ساز و سامان نکال کر ہمارے سپرد کر دیا۔نہ کچن ، نہ اپنے کمرے رکھے ،سب کچھ دے دیا ہے کہ تم مزے سے رہو۔اپنا گھر سمجھ کر ر ہو۔تقریبات کا جو منظر ہے، وہ نا قابل بیان ہے۔خاصا گرم ملک ہے اور اوپر سے شامیانے۔اور وہ دن خاص طور پر تھا بھی گرم۔بے حد تکلیف میں لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔اوپر سے ایک لمبا پر وگرام ، جس میں پہلے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی تقریر اور پھر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی تقریر، اس سے پہلے لبی تلاوت اور ایک لمبی نظم اور پھر ساتھ ساتھ ان کے ترجمے، یعنی جو دو گھنٹے کا پروگرام ہو، وہ چار گھنٹے میں جا کر ختم ہو۔اور پھر بیچ میں کرم الہی صاحب کی بھی تقریر، پھر آخر پر میری تقریر تھی۔مجھ پر یہ تاثر تھا کہ جب تک میرے کچھ کہنے کی باری آئے گی، صرف احمدی بیٹھے رہ جائیں گے، باقی سب جاچکے ہوں گے۔حقیقت میں 6 148