تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 147
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطاب فرمودہ 17 اکتوبر 1982ء 攀攀 لگائیں کہ پین نے اسلام کے لئے اپنے دروازے کھول دیئے ہیں۔یہی نہیں بلکہ جب وہ انٹر ویو لے کر انٹرویو کر رخصت ہوئے تو ضمناً انہوں نے ہم سے پوچھا کہ آپ کا پروگرام کیا ہے؟ آپ نے الحمراء بھی دیکھنا ہوگا ؟ ہم نے کہا، ہاں ضرور دیکھنا ہے۔انہوں نے کہا، اندازاً آپ کسی وقت جائیں گے ؟ ہم نے بتایا کہ فلاں وقت سے فلاں وقت تک وہاں ہوں گے۔وہ پریس کے نمائندے پھر وہاں بھی پہنچے ہوئے تھے۔اور اس طرح ساتھ ساتھ پھرتے رہے کہ ہمیں دیکھنے کے لئے جو ہجوم اکٹھے ہو جاتے تھے ، ان کو ہماری تبلیغ کرتے رہے۔وہ اپنی زبان میں ان کو بتاتے رہے کہ یہ کیا ہے؟ اسلام کیا ہے؟ اور یہ کیا کہنے آئے ہیں؟ اور کیا لے کر آئیں ہیں؟ اور خدا تعالیٰ نے فضل کیا، پہلے تو ہمارے پاس صرف ایک، دو مترجم تھے، یہ دو، چار مترجم بھی ساتھ شامل ہو گئے۔آخر پر جب ہم جدا ہونے لگے تو وہ کہنے لگے ہمیں بتائیں ، آخری پیغام دیں، آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ کوئی ایک فقرہ بتائیں، جس میں یہاں آنے کی غرض کا خلاصہ آجائے۔میں نے ان سے کہا کہ ایک فقرہ تو پھر میرے دل میں یہ آ رہا ہے کہ جو چیز اہل پین نے اسلام سے تلوار کے زور سے چھینی تھی ، ہم محبت کے زور سے دوبارہ فتح کرنے کے لیے آگئے ہیں۔چنانچہ دوسرے دن کے اخباروں میں یہی عنوان لگا ہوا تھا۔انہوں نے نمایاں کر کے یہ اعلان لگایا کہ اہل سپین نے اسلام سے جو تلوار کے زور سے چھینا تھا، آج اسلام کے نمائندے محبت کے زور سے دوبارہ اس کو واپس لینے کے لئے آگئے ہیں۔دوسرے دن جب ہم واپس روانہ ہونے لگے تو ہمارا پروگرام یہ تھا کہ صبح جلدی روانہ ہوں گے۔خیال یہ تھا کہ گیارہ ، ساڑھے گیارہ بجے تک قرطبہ پہنچ جائیں۔وہاں مسجد بھی دیکھنی تھی۔اس کے بعد تو پھر اتنی مصروفیت تھی ، ناممکن تھا باہر نکل کر ہم کوئی چیز دیکھ سکتے۔تو خیال یہی تھا کہ پہلے دن غرناطہ، دوسرے دن واپسی پر قرطبہ کی مسجد دیکھیں گے اور اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بے شمار وہاں کام تھے، جو کرنے والے تھے۔لیکن روانگی میں دیر ہورہی تھی۔میں نے پتہ کیا، یہ دیر کیوں ہو رہی ہے؟ تو مجھے یہ بتایا گیا کہ پولیس کہتی ہے، جس رستہ سے آپ نے گزرنا ہے ، اس رستہ پر رش بڑا ہوتا ہے۔اس لئے جب تک ہم وہاں کی ساری ٹریفک بند نہ کر الیں اور رستہ خالی نہ کرالیں ، ہم آپ کو لے کر نہیں چلیں گے۔پس یہ جو حالات ہیں، جو عقل میں آہی نہیں سکتے۔کیونکہ ہر جگہ ہم نے انتہائی سچائی کے ساتھ اپنی حقیقت سے ان کو آگاہ کر دیا، کوئی چیز چھپا کر نہیں رکھی۔ہر جگہ جاتے ہی جو پریس انٹرویو ہوا، اس میں ہم نے اہل سپین کو بتایا کہ ہم وہ لوگ ہیں، جو اپنے ملک کے نزدیک بھی مسلمان نہیں کہلاتے۔ہم آئے تو ہیں اسلام کی نمائندگی میں لیکن کوئی لگی لپٹی نہیں رکھنا چاہتے۔تمہارا اسلوک ہم سے کیا ہو؟ یہ تمہاری مرضی ہے۔147