تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 146 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 146

خطاب فرمودہ 17 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد ششم نہیں تھے، میرے دروازے کے سامنے سے۔میں نے اپنے ترجمان دوست کے ذریعہ اس کو کہلوایا کہ آپ تھک گئے ہوں گے، آپ واپس چلے جائیں۔انہوں نے کہا، نہیں اس طرح نہیں جاؤں گا۔پہلے مجھ سے وعدہ کریں کہ صبح الحمراء دیکھنے کے لئے اپنے کمرہ سے نہیں نکلیں گے، جب تک میں نہ آ جاؤں۔اور مجھے وقت بتادیں، میں اس وقت پہنچ جاؤں گا۔میں نے وقت بتایا۔اگلے روز دروازہ کھلا تو وہ باہر کھڑے تھے۔ایسی حیرت انگیر محبت کا اظہار تھا۔میں نے سمجھا، یہ کوئی معمولی آدمی ہو گا۔چھوٹے افسر بھی ہوتے ہیں۔اس آخری بچارے کو شاید ہدایت ہو اس طرح کی۔بعد میں پتہ لگا کہ اس شہر کے وہ اسٹنٹ پولیس کمشنر تھے۔آخر پر جب ہم جدا ہونے لگے اور پریس والوں نے میرے تاثرات پوچھے تو میں ان سے کہا کہ اس شہر کو میں نے دو دفعہ دیکھا ہے۔دونوں دفعہ پولیس کے ڈی Police custody میں دیکھا ہے۔ایک دفعہ اس طرح دیکھا کہ پولیس مجھے مجرم سمجھ کر بیرونی دنیا کی مجھ سے حفاظت کر رہی تھی اور آج اللہ کے فضل سے اس طرح دیکھا ہے کہ دنیا کو مجرم سمجھ کر میری حفاظت ہو رہی تھی۔ان سے میں نے کہا، میں تو بحیثیت انسان وہی شخص ہوں۔اسی طرح کا انسان ہوں ، کوئی تبدیلی میرے اندر پیدا نہیں ہوئی۔یعنی میرا نام بھی وہی ، ذات بھی وہی ، مزاج بھی وہی تعلیم بھی وہی۔کیا فرق پڑا ہے؟ صرف اور صرف حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کی برکت ہے کہ جن کی نمائندگی میں ، میں اس دفعہ پین گیا تھا اور ایسی حیرت انگیز طور پر کا یا پلٹ گئی۔وہاں جب ہم غرناطہ پہنچے ہیں تو پریس کا حال یہ تھا کہ جاتے ہی پہلے ہمیں ہوٹل میں داخل ہوتے ہی ایک آواز آئی، اهلا وسهلا و مرحباً۔ہم نے حیرت سے پوچھا، یہ اھلا و سھلا کہنے والے کون ہیں؟ تو پتہ لگا کہ پریس کے نمائندے انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے یہ الفاظ سیکھے ہیں، آپ کو خوش آمدید کہنے کے لئے۔جب پریس انٹرویو شروع ہوا تو جس طرح ہمیں باقی پریس کے ساتھ واسطہ پڑتا رہا ہے اور مختلف ملکوں میں پریس کا تصور مختلف ہے۔بعض جگہ اچھے پریس کی علامت ہے کہ سو فیصدی جھوٹ بولا جائے۔اور یہ علامتیں اور یہ تعریفیں بدلتی جاتی ہیں۔کہیں نوے فیصدی جھوٹ آجاتا ہے، کہیں اسی فیصدی آجاتا ہے، کہیں ستر فیصدی۔چنانچہ پین میں جو دوسرا پریس انٹرویو ہوا، اس میں انہوں نے ہمارے متعلق ایک لفظ جھوٹ نہیں بولا۔ہر وہ بات نمایاں طور پر بیان کی ، جو کہ اسلام کی تائید میں تھی۔اور دوسرے دن کے پرچے دیکھ کر ہم حیران رہ گئے کہ اگر کوئی احمدی پریس نمائندہ ہوتا تو اس سے بہتر وہ ہمارے انٹرویوکو شائع نہیں کر سکتا تھا۔غرناطہ سے لاکھوں کی تعداد میں شائع ہونے والے اخباروں نے ہمارا چرچا کیا اور اس اعلان کی سرخیاں 146