تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 145
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 17 اکتوبر 1982ء سارا عرصہ خود پابند ہو کر نہیں گزارنا چاہتا تھا۔وہ ذرا آرام طلب لوگ ہیں۔ہم تو تھرڈ کلاس میں تھے۔اس کو فرسٹ کلاس کا ایک خالی ڈبہ ملاء اسی میں اس نے مجھے قید کر دیا۔میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ بڑی اچھی قید ہے، فرسٹ کلاس کی سیٹ پر میں نے بڑے مزے سے سفر طے کیا۔وہاں جا کر تھانے میں جا کر بیٹھ گئے۔اس کو میں نے پھر آخر کہا، بلاؤ تو کسی ترجمان کو۔انہوں نے ایک ترجمان بلایا۔ایک امریکن ہوٹل میں کام کرتا تھا۔اس کو میں نے کہا، تم لوگ بڑے عجیب ہو۔ہم تو سمجھتے تھے، بڑے مہمان نواز لوگ ہیں۔اچھا تم نے ہمیں الحمراء دکھایا ہے کہ تھانے لا کر بٹھا دیا۔تو تھانے دار نے شفقت کی کہ میر محمود احمد صاحب سے کہا کہ تم اپنا پاسپورٹ چھوڑ جاؤ اور تم دونوں جا کر سیر کرو۔اور ہماری نگرانی بھی ہوئی اور ہم نے اسی نگرانی میں سیر کی۔واپس آنے تک معاملہ صاف ہو گیا تھا۔کرم الہی صاحب ظفر کو ہم نے پیغام بھیجا تھا، انہوں نے وہاں منسٹری میں جا کر شور ڈالا تو بڑی سختی سے وہاں سے تھانے دار کو فون آیا اور چونکہ پولیس سٹیٹ تھی۔پولیس افسروں سے خود پولیس بڑا ڈرتی تھی۔تو میں نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ فون پر ادھر سے کوئی افسر بڑی تیزی سے بول رہا تھا اور وہ تھانے دار صاحب ڈر کے مارے بار بار مجھے سیلوٹ کرتے جارہے تھے۔خیر ایک وہ وقت بھی تھا۔ایک یہ وقت آیا کہ پین کی پولیس کو ہم نے ایک اور روپ میں دیکھا۔اور سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے دلوں میں وہ تبدیلی پیدا کی ہو، یہ ناممکن ہے کہ ایک حکومت کی پولیس اس طرح غیر معمولی طور پر محبت کا اظہار کرے۔جس وقت ہم وہاں پہنچے ہیں، اس وقت لے کر آخر وقت تک پولیس افسران ہماری حفاظت کے لئے آگے بھی چل رہے تھے، پیچھے بھی چل رہے تھے۔اور ایسا عجیب انتظام تھا کہ ایک ریاست سے جب دوسری میں جاتے تھے تو وہاں آگے پولیس کی کاریں کھڑی ہمارا انتظار کر رہی ہوتی تھیں۔اور وہ Take Over ( ٹیک اوور کرتی تھیں اور سلام کر کے پھر پہلی پارٹی اجازت لیتی تھی۔اور ایک مستقل پارٹی ساتھ رہتی تھی۔صرف یہ حفاظت نہیں کر رہے تھے، حیرت انگیز محبت کا اظہار تھا۔✓ ( مطبونه روزنامه الفضل 30 جون 1983ء) جب ہم غرناطہ پہنچے ہیں تو دو واقعات ایسے ہیں، جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں کیسی تبدیلی پیدا کردی؟ ایک پولیس آفیسر صاحب جو ہمارے ساتھ تھے، وہ موٹروں کے دروازے کھولتے تھے ، جس طرح ڈرائیور کھولتے ہیں۔اور رات کو جب ہم جدا ہوئے ، قریباً بارہ ، ایک بح گئے تھے۔غالباً ایک بجے کی بات ہے۔پریس کانفرنس بھی ہوئی ، لمبا عرصہ ہو گیا تھا، وہ صاحب ہٹتے ہی 145