تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 144
خطاب فرمودہ 17 اکتوبر 1982 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم اظہار کرتے تھے۔یہاں تک کہ بعض دفعہ جب ہمارے دوست سپینش بچوں کے پاس سے گزرتے تھے تو بچے محبت کے اظہار کے طور پر لا اله الا الله لا اله الا الله پڑھنے لگ جاتے تھے۔لا الہ الا اللہ کی آواز بڑی پیاری ہے۔لیکن عیسائی مشرکین اور پھر رومن کیتھولک اور مشرکین، پھر سپینش رومن کیتھولک بچوں کے منہ سے جب لا الہ الا اللہ کی آواز آتی تھی تو ایسا سرور آتا تھا، ایسا دل کھل جاتا تھا، نشے میں کہ اس کا کوئی تصور نہیں کر سکتا، جس نے وہ آواز خود اپنے کانوں سے نہ سنی ہو۔ہم تھوڑی دیر کے لئے وہاں ساتھ کا گاؤں پید رو آباد ہے، وہ دیکھنے کے لئے گئے۔چند منٹ کے لئے خیال تھا کہ نظر ڈال لیں ، وہ گاؤں کیسا ہے؟ تو وہاں ایک میلہ سا لگا ہوا تھا۔جب ہم داخل ہوئے ہیں تو بہت سارے بچے جو زرق برق لباس میں ملبوس تھے، انہوں نے ہمیں دیکھا اور سوال نہیں کیا۔انہیں تو ہماری زبان آتی نہیں تھی۔صرف ایک کلمہ سیکھا ہوا تھا۔تو انہوں نے کہا، لا اله الا اللہ یعنی تم وہی ہو ، لا الہ الا اللہ والے؟ ہم نے کہا ، لا الہ الا اللہ۔اس پر انہوں نے بڑی خوشی سے کہنا شروع کر دیا، لا اله الا الله لا اله الا الله عجیب کیفیت تھی۔لیکن پید رو آباد ایک چھوٹا سا قصبہ ہے، اس کے اردگرد کے ماحول میں معمولی سی تبدیلی آنا تو آپ سمجھتے ہوں گے کہ تعجب کی بات نہیں۔مگر سارے پین میں، سارے اندلس میں یہ تبدیلی تھی۔اندلس کے ہر شعبہ زندگی میں یہ تبدیلی تھی۔پین کی پولیس کسی زمانہ میں اپنی تختی میں مشہور تھی۔اور مجھے بھی اس کا تجربہ ہوا ہے۔میں جب 1957ء میں پہلی دفعہ غرناطہ میں الحمراء دیکھنے گیا تو وہاں کے مبلغ نے مجھے اتنا ڈرایا ہوا تھا کہ یہاں جیب کترے ہیں، جیبیں کاٹی جاتی ہیں، ڈاکومنٹس (Documents) چوری ہو جاتے ہیں کہ میں اپنا پاسپورٹ گھر جان کر چھوڑ کے آیا۔انہوں نے ڈرا تو دیا، یہ بتانا بھول گئے کہ یہاں پولیس اتنی سخت ہے کہ اگر پاسپورٹ کے بغیر پکڑا جائے تو اسی وقت اس کو قید کر دیتے ہیں۔چنانچہ میں گاڑی میں ابھی بیٹھا ہی تھا، میر محمود احمد صاحب بھی میرے ساتھ تھے تو پولیس والا آیا۔ہمیں اس کی زبان تو آتی نہیں تھی۔اس نے کہا، کا شیح ؟ کارڈ دکھاؤ ؟ میں نے کہا، میرے پاس تو کوئی نہیں ہے۔اس نے کہا، اچھا آجاؤ، پھر میرے ساتھ۔اب اس بیچارے کو قید خانہ کوئی ملے نہ گاڑی میں۔اور چھ سات گھنٹے کا سفر تھا۔اب وہ میرے ساتھ بیٹھ کر یہ یہ 144