تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 4
خطاب فرمودہ 23 جولائی 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ہیں۔اس سے بہتر کوئی علاج نہیں ہے، کسی مشکل کا، کسی اندھیرے کا۔پس دونوں پہلوؤں کو مد نظر ہوئے مبلغین کو دعا کرتے ہوئے رخصت ہونا چاہئے اور دعائیں کرتے رہنا چاہیے۔پیچھے کے لحاظ سے اولاد کی تربیت کا مسئلہ سب سے بڑا ہے۔جو بچے ماں باپ کے زیر نظر نہیں پلتے یا ماں باپ میں سے ایک ان میں سے نگران نہیں رہتا، ان کے لئے کئی قسم کی مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔ظاہری مشکلات تو ہوتی ہی ہیں لیکن سب سے زیادہ بڑی مشکل، جو میرے ذہن میں ہے، وہ تربیت کا فقدان ہے۔اور اگر ایک زندگی وقف کرنے والے کو یہ ضمانت نہ ہو کہ اس کے بچے بھی اسی روح کے ساتھ بڑے ہوں گے، جس روح کی خاطر اس نے اپنا سب کچھ قربان کیا تو یہ بہت بڑی فکر کی بات ہے۔اس لئے اس پہلو سے خاص طور پر دعا کریں۔اور جہاں تک تحریک جدید کا تعلق ہے، تحریک جدید کا فرض ہے کہ وہ پوری طرح ہوشیار اور نگران رو کر ان کے بچوں کی روحانی تربیت کا انتظام کرتی رہے۔اور اگر خدانخواستہ کہیں کوئی کمی دیکھے یا کوئی اندیشہ پیدا ہو تو بر وقت خلیفہ وقت کو اطلاع کرے کہ یہ حالات پیدا ہورہے ہیں۔میں یہ زیادہ پسند کروں گا کہ مبلغ کو پہلے واپس بلا لیا جائے یا بچوں کو وہاں بھجوا دیا جائے ، بنسبت اس کے کہ ان کے بچوں کی تربیت خراب ہو۔جو خود وقف کر کے ایک عظیم قربانی سلسلہ کے لئے پیش کر رہے ہیں۔دوسرا پہلو ہے، بیرون ملک جا کر ان کو دعا کے علاوہ کیا کرنا چاہیے؟ اس ضمن میں، میں چند اصولی باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جب آپ کسی نئی جگہ جاتے ہیں تو ایک اندھیرانئی جگہ کا ذاتی اندھیرا ہوتا ہے۔جس طرح دو پہر کو باہر سے کمرے میں داخل ہوتے ہیں تو کچھ دیر تک آنکھوں کو Adjust کرنا پڑتا ہے، ماحول کے ساتھ۔اس کے بغیر جو تیزی سے حرکت کرے گا ، وہ لازما ٹھو کر کھائے گا۔اس لئے شروع میں آپ کی حرکت کی رفتار کنٹرول میں آنی چاہیے۔فیصلوں کی رفتار آہستہ ہو جانی چاہیے۔یہ جو خدا تعالیٰ کا قانون ہے، یہ ہر جگہ کام کرتا ہے۔مثلاً کرکٹ میں وہ کھلاڑی، جو بہت تیز سٹروک بناتے ہیں، ان کو اگر opener کے طور پر بھیج دیا جائے تو وہ جاتے ہی آوٹ ہو جاتے ہیں۔اوپنر کا ایک مزاج ہوتا ہے اور سلسلہ کے مبلغین میں سے ہر ایک کو اوپنر کے طور پر کام کرنا پڑے گا۔اپنے آپ کو روکنا پڑے گا، فیصلوں میں تحمل پیدا کرنا پڑے گا۔اور تحمل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کرتا ہے کہ بظاہر ایک چیز نظر آگئی کہ میں نے اس کو یوں دیکھا ہے۔محل اگر دل میں ہوگا تو انسان فیصلہ کرنے میں توقف کرے گا، دیکھنے کے باوجود۔اور انتظار کرے گا کہ شاید کچھ اور پہلو ہوں، جو مجھے ابھی نظر نہ آئے ہوں۔پس جب کسی نئے ملک میں مبلغ جاتا ہے تو اپنے 4