تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 122
خطاب فرمود 160 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک دوسرے مجھے خیال آیا کہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ لجنہ کو بھی اس فوج میں شامل کیا جائے۔مجاہدین کی صف اول میں عورتوں کو بھی شامل ہونا چاہیے۔کیونکہ لجنہ ، ہمارے ہاں معروف معنی عورتوں کی تنظیم کے رکھتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے لفظ لجنہ (خواب میں۔ناقل ) اس لئے استعمال فرمایا تا کہ توجہ اس طرف منتقل ہو کہ جب تک میدان جہاد میں عورتوں سے پورا کام نہیں لیا جائے گا، صحیح معنوں میں کام نہیں ہوگا، صحیح معنوں میں اسلام کی فتح کے دن قریب نہیں آئیں گے۔تیسرا خیال مجھے یہ آیا ( اور وہ ضمنی ہے اور سرسری ہے) کہ چونکہ میری والدہ کا لجنہ سے ایک بہت پر انا خادمانہ تعلق رہا ہے اور بچپن میں ہم نے یہی دیکھا کہ جب حضرت امی جان سیدہ ام ناصر رضی اللہ تعالیٰ عنہا صدر ہوا کرتی تھیں تو میری والدہ جنرل سیکریٹری ہوا کرتی تھیں اور عموماً جنرل سیکریٹری کی مصروفیات وقت کے لحاظ سے بہت ہوتی ہیں، اس لئے عموماً پرانی عورتیں، خدمت کرنے والیاں، مختلف تحریکات کے وقت پروگرام بنانے والیاں ہمارے گھر اکٹھی ہوا کرتی تھیں۔اور بعض دفعہ بلکہ اکثر اجلاس بھی وہاں ہوتے تھے اور درس قرآن مجید بھی حضرت مصلح موعود وہیں دیا کرتے تھے۔اس لئے میرے بچپن کا لجنہ سے ایک تعلق رہا ہے۔اس وقت تو وہ تعلق میرے لئے ایک تکلیف کا تعلق تھا۔کیونکہ بعض دفعہ باہر نکلتے ہوئے شرماتا تھا۔کپڑوں کا برا حال، پھٹے ہوئے ، بٹن ٹوٹے ہوئے، فکر ایک ہاتھ سے سنبھالی ہوئی اور حلیہ بگڑا ہوا اور شرم آتی تھی کہ باہر کس طرح نکلوں۔مجھے یاد ہے، میں کئی دفعہ ناشتہ ہی نہیں کرتا تھا شرم کے مارے کہ با ہر عور تیں بیٹھی ہیں، میں نکلوں کس طرح اور کپڑوں کی نہ مجھے ہوش تھی نہ میری والدہ کو ہوش تھی کہ مجھے کپڑے پہنا ئیں۔اس وجہ سے لجنہ سے ایک تکلیف کا تعلق بھی تھا۔پھر ہر ہفتے درس قرآن ہوا کرتا تھا۔مجھے یاد ہے، ہمیں نماز کے بعد سونے کی عادت تھی، اب بھی ہے۔حضرت مصلح موعود چونکہ نماز کے بعد سویا کرتے تھے، اس لئے سارے بچوں کو عادت تھی کہ نماز کے بعد سو جائیں اور اس کے بعد ذرالیٹ ناشتہ کریں۔اور اس دن ابھی آنکھ نہیں لگی ہوتی تھی کہ لجنہ کی عورتیں آکے ہمارے بستر لپیٹ دیا کرتی تھیں۔اور اگر کوئی بچہ نہیں اٹھتا تھا بستر میں بچوں کو لپیٹ دیتی تھیں۔اس لئے ایک تکلیف کا تعلق بھی لجنہ سے ہے، جیسا کہ میں نے کہا ہے۔لیکن جب وہ تعلق یاد میں ڈھلا تو وہ ایک فخر کا تعلق بن گیا، ایک محبت کا تعلق بن گیا۔اور خدمت کرنے والیوں کی یاد آکر دل میں مسرت کی لہریں دوڑتی رہیں کہ قادیان کے زمانے میں کیسا پیارا منظر ہوتا تھا۔عورتیں کس شوق اور محبت کے ساتھ خدمت دین میں آگے آیا کرتی تھیں۔عجیب عجیب نظارے ہم نے دیکھے، اس تعلق کی بناء پر۔ایسے حیرت انگیز نظارے تھے کہ جو ہمیشہ کے لئے دل پر نقش ہو گئے۔کبھی بھلائے نہیں جاسکتے تھے۔ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ ایک عورت 122