تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 121
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 16 اکتوبر 1982ء مقابلہ تو عاشق اور معشوق کا، محبت کرنے والے اور محبوب کا مقابلہ ہے۔جب محبت کرنے والے کو اپنے محبوب پر فتح نصیب ہوتی ہے تو وہ بدلے نہیں اتارا کرتا۔وہ پاؤں پڑتا ہے اور منتیں کرتا ہے اور کہتا ہے، ہم سے جو غلطی ہوئی تم وہ معاف کر دینا۔تم نے جو دکھ دیئے، ہم نے ان کی لذتیں پائیں۔لیکن ہم سے جو کوتاہیاں ہوئی اور ہم تمہارے پیچھے پڑے اور تمہاری دل آزاریاں ہوگئی ہوں گی، ہم ان کی معافی چاہتے ہیں۔اس لئے عاشق کی فتح تو یہ رنگ رکھتی ہے۔اس میں محبوب کے لئے کسی خوف کا سوال ہی نہیں۔پہلے بھی وہ گرا رہتا ہے، بعد میں بھی گرتا ہے اور قدموں پہ جھکتا ہے۔جب میں یہ کہتا ہوں تو اطمینان کی ایک عجیب لہر دوڑ جاتی ہے، مدمقابل گروہ پر اور وہ پوری طرح مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ہاں ان سے ہمیں کسی حالت میں خوف نہیں۔خواہ یہ غالب ہوں، خواہ یہ مغلوب ہوں۔ان سے سوائے رحمت کے اور کچھ ہماری طرف جاری نہیں ہوگا۔یہ وہ خواب تھی، جب اس نے سوال کیا تو اچانک مجھے یاد آئی اور میں نے سوچا کہ چونکہ لجنہ اماء اللہ کا نام اس میں آتا ہے اور خدا تعالیٰ کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا ، اس لئے اس میں ضرور کوئی معنی ہوں گے۔میں نحور کرتا رہا، یعنی انگلستان میں اس وقت جب خواب یاد آئی، اس کے بعد کے عرصہ میں جب میں نے غور کیا تو اس میں کئی باتیں میرے ذہن میں آئیں۔1 لجنہ اماءاللہ اگر چہ ہمارے ہاں عورتوں کی تنظیم کا نام ہے لیکن در حقیقت لجنہ ایک ایسے گروہ کو کہتے ہیں، جو مردوں کا بھی ہوسکتا ہے، عورتوں کا بھی ہو سکتا ہے۔یعنی یہ عربی کا وہ لفظ ہے، جو مردوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، صرف عورتوں کے لئے نہیں۔چنانچہ اسی بنا پر بعض عرب ممالک میں یہ کہہ کر غلط فہمی پھیلائی گئی ، جماعت احمدیہ کے متعلق کہ لجنہ اماءاللہ جماعت احمدیہ کی اس فوج کا نام ہے، جو نعوذ باللہ من ذالک اسرائیل کی طرف سے تیار کی گئی ہے، عربوں پر حملہ کرنے کے لئے۔ایسی جاہلانہ باتیں بھی دشمنوں نے وہاں پھیلائیں۔لیکن عربی نقطہ نگاہ سے چونکہ یہ قابل تسلیم بات تھی کہ لجنہ مردوں کے کسی گروہ کا نام ہو، اس لئے وہ بات وہاں چلائی اور تھوڑی دیر چل گئی۔امر واقعہ یہ ہے، ہمارے ہاں تو خدا کے فضل سے لجنہ عورتوں کی تنظیم ہے اور مردوں کی بھی کوئی تنظیم فوجی نوعیت کی نہیں۔اور اگر ہوتی بھی تو وہ اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف ہی استعمال ہوئی تھی، ان کے حق میں تو استعمال نہیں ہو سکتی تھی۔بہر حال لجنہ کا ایک مفہوم مجھے یہ مجھ آیا کہ اللہ تعالیٰ کی جو فوج ہے، اس کی طرف اشارہ ہے۔جس میں مرد بھی شامل ہیں اور عورتیں بھی شامل ہیں۔اس لئے کوئی تخصیص نہیں ہے۔121