تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 120 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 120

خطاب فرمودہ 16 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد ششم اپنی وہ خواب پیش کروں گا۔وہم و گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا اس زمانے میں کسی ایسے مطلب سے جس نے بعد میں اپنے وقت پہ آکے ظاہر ہونا تھا۔ایک خواب آئی اور تعجب پیدا کر کے چلی گئی۔لیکن بعد کے وقت نے اس کا ایک اور مضمون کھولا ، جس کا اب کے وقت سے تعلق۔ا ہے۔وہ خواب یہ تھی کہ ایک کمرے میں کچھ غیر از جماعت دوست ہیں اور کچھ احمدی علماء، جو مناظرے کے فن کے ماہر ہیں، وہ بیٹھے ہوئے ہیں۔باقاعدہ مناظرہ تو نہیں ہورہا لیکن ایک بے تکلف سوال و جواب کی مجلس چل رہی ہے۔اور رفتہ رفتہ جو مخالف گروہ ہے، اس کے اندر پاک تبدیلی کے کچھ آثار نظر آتے ہیں۔یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص نے یہ سوال کیا کہ ہم نے آپ لوگوں پر اتنے مظالم کئے ہیں کہ اگر آپ غالب آگئے تو آپ ہم سے بدلے اتاریں گے، اس لئے کسی قیمت پہ بھی احمدیت کو غالب نہیں آنے دینا۔کیونکہ اگر تم لوگ غالب آگئے تو ہمیں اپنے ظلم یاد ہیں، ان ظلموں کو یاد کر کے تم ہم سے بدلے اتارو گے۔اس لئے ہمارے قومی مفاد میں ہے کہ آپ لوگ غالب نہ آئیں۔جب اس نے یہ سوال کیا تو ہمارے علماء کوئی جواب دینے لگے۔لیکن میرے دل میں ایک بے چینی سی پیدا ہوئی کہ یہ تسلی بخش اور صحیح جواب نہیں دے رہے۔میری چونکہ اس وقت عمر بھی چھوٹی تھی (میں نے جیسا کہ گذارش کی ہے کہ پچیس سال یا اس سے لگ بھگ یا اس سے پہلے کی خواب ہے ) تو مجھے کچھ شرم محسوس ہوئی کہ میں آگے بڑھ کر جواب دوں، جبکہ سلسلہ کے چوٹی کے علماء اور بزرگ موجود ہیں۔لیکن پھر بے چینی بڑھ گئی اور میں نے محسوس کیا کہ اب یہ شرم کا وقت نہیں رہا، مجھے آگے آنا چاہیے۔چنانچہ میں نے کھڑے ہو کر جو اعلان کیا ، وہ حیرت انگیز ہے۔اس وقت میں حیران تھا کہ میں یہ کیا کلمات کہہ رہا ہوں؟ نہ اس وقت زبان پہ اختیار تھا۔نہ اٹھنے کے بعد سمجھ آئی کہ میں یہ کیا بات کر رہا ہوں؟ میں نے اس طرح بات شروع کی کہ میں لجنہ اماءاللہ کے ان تیروں میں سے ہوں، جو خاص اہم وقت کے لئے بچا کے رکھے جاتے ہیں اور اپنے وقت پر انہوں نے استعمال ہونا ہے۔لیکن بعض اوقات ایسی ہنگامی ضروریات پیش آجاتی ہیں کہ ان بعد کے لئے بچائے ہوئے تیروں کو وقت سے پہلے بھی استعمال کرنا پڑتا ہے۔آج ایک ایسا ہی وقت ہے۔یہ اعلان ہے، جو میں نے کیا۔اور حیران تھا کہ میں یہ کیا بات کہہ رہا ہوں اور کیوں کہہ رہا ہوں؟ کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی اور نہ اٹھنے کے بعد سمجھ آئی۔اس لئے یہ خواب فراموش ہو گئی ، ذہن سے۔اگلی بات میں ان سے یہ کہتا ہوں کہ آپ نے جو سوال کیا ہے، اس کا صحیح جواب میں آپ کو دیتا ہوں۔ہمارا اور آپ کا مقابلہ، ایسا مقابلہ نہیں ہے، جیسے دودشمنوں کا مقابلہ ہوا کرتا ہے۔ہمارا اور آپ کا 120