تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 106
اقتباس از خطاب فرموده 15 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ایسا پر اثر کلام، ایسا پاکیزہ کلام، ایسا حکمتوں پرمبنی کلام، خدا کی حمد کے گیت گا تا ہوا ایسا کلام ، جس کے متعلق بے اختیار یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ آدمی زاد تو کیا چیز فرشتے بھی تمام مدح میں تیری وہ گاتے ہیں جو گایا ہم نے حقیقت یہ ہے کہ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے یہ شعر کہا ہوگا تو یقیناً اور لازمان آسمان پر ملائکہ بھی آپ کے ہم آواز ہو کر یہ شعر گار ہے ہوں گے۔اور وہ ساری حمد آپ کے پیچھے پڑھا رہے ہوں گے، جو خدا کی حمد میں آپ نے اظہار محبت اور عشق کیا۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی جان محبت ہے، دین کی حقیقت عشق ہے۔وہ دین، جو محبت اور عشق سے عاری ہے، اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔نہ وہ زندہ رہنے کے لائق ہے، نہ زندہ رکھنے کے قابل ہے۔روح ہے، زندگی اور ادیان کا فلسفہ اس بات میں مضمر ہے کہ خدا سے محبت کی جائے۔اور ایسی محبت کی جائے کہ دنیا کی ہر چیز پر وہ محبت غالب آجائے۔کوئی وجود اس سے زیادہ پیارا نہ رہے، کوئی ساتھی اس سے زیادہ عزیز تر نہ ہو۔یہ محبت جب زندگی کے ہر دوسرے جذبے پر غالب آجاتی ہے تو اس وقت وہ لوگ پیدا ہوتے ہیں، جنہیں خدا نما وجود کہا جاتا ہے۔یہی سب سے بڑا ہتھیار ہے، جس سے دنیا کے قلوب فتح کئے جائیں گے۔یہی وہ ہتھیار ہے، جس نے بہر حال غالب آتا ہے۔چنانچہ جب میں پین گیا تو ان لوگوں کے دل میں بھی کئی قسم کے تو ہمات تھے۔وہ یہ سمجھے رہے ے کہ شاید ہمیں Moors کی طرح، جنہوں نے پہلے فتح کیا تھا، دوبارہ کسی قوت کے زور سے، کسی ہوشیاری سے، کوئی سکیم بنا کر فتح کرنے کے ارادے ہیں۔اسی لئے میں نے اپنے پیغام میں اس بات کو خوب کھول دیا اور واضح کر دیا کہ محبت کے سوا ہم اور کوئی پیغام لے کر نہیں آئے۔ایک موقع پر ایک پریس کے نمائندے نے مجھے سے سوال کیا کہ آپ آخر کیا کرنے آئے ہیں؟ اس مقصد کو واضح تو کریں؟ میں نے ان سے کہا کہ ہم یہ کرنے آئے ہیں کہ تلوار نے جس ملک کو مسلمانوں سے چھینا تھا محبت سے ہم اس ملک کو دوبارہ فتح کرلیں۔اس کے سوا ہمارا کوئی مقصد نہیں ہے۔اور یہ پیغام ایسا ہے، جس پیغام کا مقابلہ دنیا میں کسی طاقت کے بس کی بات نہیں۔جب سے انسان دنیا میں پیدا ہوا ہے۔مذاہب کی تاریخ پر آپ نظر ڈالیں، محبت ہمیشہ جیتی ہے اور نفرت ہمیشہ ہاری ہے۔یہ ناممکن ہے کہ اس اٹل تقدید کو دنیا کی کوئی قوم بدل سکے۔اس لئے خدام احمد بیت بھی محبان احمدیت ہے اسال نیا بدل سکے۔106