تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 98
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 15 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک نتیجہ میں دشمن پر کچھ اندھیرے طاری ہو جائیں گے۔اور ان اندھیروں کے نتیجہ میں وہ تم پر بھی اندھیرے طاری کرنے کی کوشش کریں گے۔وَ مِنْ شَرِّ النَّقْتُتِ فِي الْعُقَدِ تمہارے جو تعلقات قائم ہوں گے، تمہارے جو روابط پیدا ہوں گے، دنیا میں تم ہر دلعزیز ہو گے، نئی نئی قوموں سے تمہارے واسطے پیدا ہوں گے، ایسے تمام مواقع پر اللہ تعالی مطلع فرماتا ہے کہ کچھ ایسے بھی پیدا ہوں گے، جو ان تعلقات کو توڑنے کے لئے ، ان میں زہر گھولنے کے لئے پھونکیں ماریں گے۔نفاثات کہتے ہیں، پھونکنے والیوں کو۔یعنی جادوٹو نا کرنے والیوں کو بھی نفاثات کہا جاتا ہے۔لیکن نفت کا اصل مضمون سانپ سے تعلق رکھتا ہے۔چنانچہ اس مضمون سے آگے پھر جادو ٹونے کا مضمون مستعار لیا گیا۔افعی یعنی سانپ جب زہر گھولتا ہے، گس گھولتا ہے تو اس کو عربی میں نفٹ کہتے ہیں۔فرمایا۔ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور نعمتیں ہیں، جو تمہارے لئے زندگی کا انتظام کر رہی ہوں گی۔دوسری طرف موت تھوکنے والے بھی پیدا ہو جائیں گے، جو تمہارے تعلقات کی گانٹھوں میں موت پڑھ پڑھ کر پھونکیں گے یا موت کا زہر گھولنے کی کوشش کریں گے۔اللہ تعالیٰ متنبہ فرماتا ہے کہ یہ خطرات وابستہ ہیں۔یہ وہ خطرات ہیں، جو تمہارے مقدر میں ہیں، ان کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ہاں اگر تم دعائیں کرو گے تو ان خطرات کے وقت ان کے شر سے محفوظ رہو گے۔یعنی یہ رات تو ایسی ہے، جو ٹل نہیں سکتی۔لازما آنی ہے۔اندھیروں کی یہ پیداوار کہ سانپ بچھو نکل آئیں اور ڈسنے لگیں، چور ڈاکو اور اچکے پیدا ہو جائیں، یہ تو ایک ایسی قدرت خداوندی ہے، جس کو کوئی بدل نہیں سکتا۔فرمایا۔ہاں، ایک چیز ہے، جو ہمارے بس میں ہے۔یہ سانہ تھوکتے رہیں گے، تمہاری گانٹھوں پر۔اللہ ان کے شر سے تمہیں محفوظ رکھتا چلا جائے گا۔یہ وہ تقدیر ہے، جس کو حاصل کرنے کے لئے تم دعائیں کرو۔پھر فرماتا ہے:۔وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ اگر کوئی ان تمام احتیاطوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کے راستہ پر آگے بڑھتا چلا جائے تو خدا تعالیٰ اپنے فضل اتنے بڑھائے گا اور شر سے اس طرح محفوظ رکھتا چلا جائے گا کہ ہر قدم حصول خیر و برکت کا قدم تو ہو گا۔ٹھوکر اور تنزل کا قدم نہیں ہو گا۔جب تم اس مقام پر پہنچو گے تو ایک اور قسم کا اندھیرا بھی تمہاری راہ میں منتظر ہوگا اور وہ حاسد کا حسد ہے۔98