تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 96 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 96

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم حاصل کر کے زندگی کے دوسرے پہلو سے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔نعمت کے طور پر اسے تھوڑی سی چیز ملے تو اس نعمت کے نتیجہ میں وہ خود مالک بن بیٹھتا ہے اور خدا سے غافل ہو جاتا ہے۔نتیجہ اس شر سے بے پرواہ ہو جاتا ہے، جو نعمت کے ساتھ ملحق ہوتا ہے۔اگر نعمت کا صحیح استعمال ہو تو انسان شر سے بچ جاتا ہے۔اگر غلط استعمال ہو تو شر اس کے بعد لازماً اس کے تعاقب میں آتا ہے" وو ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہم نعمت عطا کرتے ہیں اور وہ أَعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِه وہ انسان خود پرستی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور دین سے اور شکر کا حق ادا کرنے سے پہلو تہی کرتا ہے۔و نابجانبہ اور ہر چیز کو اپنی جانب ہی سمیٹ لیتا ہے۔یعنی پہلو تہی اس رنگ میں گویا میں ہی تھا، سب کچھ میرا ہی ہے اور کسی کا کوئی دخل نہیں۔یعنی خدا تعالیٰ کی رحمت سے کلینتہ غافل اور اس کے شکر سے کلیتہ غافل ہو جاتا ہے۔اور وہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد شر بھی آنے والا ہے۔ایسی حالتیں ہمیشہ شر لے کر آتی ہیں۔نتیجةً وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَوْسًا اس وقت بھی اس کی عجیب حالت ہوتی ہے، جب اس کو شیر پہنچتا ہے۔تو ایسے شخص میں مقابلہ کی طاقت نہیں ہوتی۔وہ ایک کیفیت سے مغلوب ہونا جانتا ہے۔یہ نفسیاتی فلسفہ ہے، جو قرآن کریم بیان کر رہا ہے کہ وہ لوگ جو زندگی کے دونوں پہلوؤں پر بیک وقت نظریں نہیں رکھتے ، وہ ایک پہلو سے مغلوب ہو جاتے ہیں۔جس طرح وہ خوشی سے مغلوب ہو جاتے ہیں، اس طرح شر سے بھی مغلوب ہو جاتے ہیں۔اور شر آتا ہے تو زندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ان کو روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔ان چیزوں سے پناہ کی تلقین فرمائی گئی۔دعا سکھائی گئی۔قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔اے خدا! تو جو نئی نئی امیدیں پیدا کرنے والا اور ہمارے لئے ترقی کے نئے راستے کھولنے والا ہے، تو ہماری کوششوں کے بیجوں کو نئے پودوں اور لہلہاتی ہوئی کونپلوں میں تبدیل کرنے والا خدا ہے۔تو زندگی کے اس عمل کے شرسے ہمیں محفوظ رکھنا۔کیونکہ ہر پیدائش کے ساتھ کچھ شر بھی لگے ہوتے ہیں۔اور ہمیں موت سے غافل نہ ہونے دینا۔کیونکہ جس وقت زندہ چیز موت کے خطروں سے غافل ہو جاتی ہے، وہ ہمیشہ انحطاط پذیر ہو جاتی ہے۔وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ اور رات کے خطروں سے بھی بچانا ، جب وہ چھا جائے“۔96