تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 95
تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 اکتوبر 1982ء ترقیات کی نئی راہیں کھلنے پر سطحی جشن منانے یا بے فکر ہونے کی ضرورت نہیں خطبہ جمعہ فرمودہ 15 اکتوبر 1982ء قرآن کا یہ بہت ہی پیارا اسلوب ہے کہ دعاؤں کے رنگ میں انسان کی تربیت فرماتا ہے۔دعاؤں سے جو فائدہ انسان کو پہنچتا ہے، وہ اپنی جگہ ہے۔اس کے علاوہ ان دعاؤں میں بڑے گہرے مضامین ایسے ہیں ، جو انسان کی تربیت سے تعلق رکھتے ہیں۔اس کے ذہن اور اس کے قلب، اس کی فکر اور اس کے جذبات کو توازن بخشتے ہیں۔اور وہ غلطیاں، جن میں انسان بسا اوقات مختلف جذبات اور مختلف مواقع پر مبتلا ہو جایا کرتا ہے، ان غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان ٹھوکروں سے بچاتے ہیں۔سورۃ فلق کی یہ آیات، جو میں نے تلاوت کی ہیں، ان میں بھی ایک ویسی ہی بہت پیاری دعا سکھائی گئی اور انسان کو ایک ایسے مضمون سے آگاہ کیا گیا کہ اگر وہ اس سے باخبر رہے تو ترقیات اور فضلوں اور رحمتوں کے وقت بے خوف نہ ہو اور دنیا کی نظر میں جتنے خوف ہیں، ان خوفوں کے وقت مایوس نہ ہو۔گویا ہر حالت میں انسان کو اعتدال کا سبق سکھایا گیا ہے۔وو جب بھی انسان کے لئے ترقیات کی نئی راہیں کھلیں، نئی صبحیں نمودار ہوں، انسانی کوششوں اور محنتوں کا ثمرہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہو اور وہ کوششیں پھوٹ کر کونپلوں میں تبدیل ہو رہی ہوں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس میں فخر کا کوئی مقام نہیں، بے فکر ہونے کی کوئی بات نہیں، ایسے جشن منانے کی کوئی ضرورت نہیں ، جو سطحی اور دنیا کے جشن ہوں۔کیونکہ حقیقت میں ہر زندگی کے ساتھ ایک موت بھی لگی ہوئی ہوتی ہے۔ہر روشنی کے ساتھ کچھ اندھیرے بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ایسے موقع پر اپنے رب کے حضور جھکنا چاہئے ، جو خالق ہے، جس نے خیر و شر کا یہ نظام پیدا فرمایا ہے۔اور اس سے یہ عرض کرنی چاہئے کہ اے اللہ ! ہمیں اس زندگی کے نئے دور میں اس طرح داخل فرما کہ اس کے ہر شر سے محفوظ رکھنا اور ہر خیر اور برکت ہمارے پہلے میں ڈال دینا۔یہ ہے وہ مضمون، جس کو بھلانے کے نتیجہ میں فتوحات کے وقت فخر پیدا ہو جاتے ہیں۔ادنی ادنیٰ نعمتوں کے حصول کے وقت انسان اپنی عاقبت سے بے نیاز اور بے فکر ہو جاتا ہے۔زندگی کے ایک پہلو کو 95