تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 726 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 726

اقتباس از خطاب فرموده 30اکتوبر 1983ء ** تحریک جدید - ایک الہی تحریک بھی ان کو یاد تھے۔اور سوال میں ان کو شامل کیا ہوا تھا کہ اب تو معاملہ بڑا Confuse یعنی مبہم ہو گیا ہے۔ایک طرف آپ کہتے ہیں، اللہ نے حضرت مرزا صاحب کو نبی بنایا ہے، دوسری طرف فلاں خدا یار اور فلاں س اور فلاں شخص اور عبد الطیف یہ سارے دعویدار ہیں۔ہم کس کس کی بات مانیں گے ؟ کس کس کو پرکھیں گے؟ خدا تعالیٰ نے ان کے سوالات کے مؤثر رنگ میں جوابات دینے کی توفیق عطا فرمائی۔میں نے ان سے کہا کہ آپ کے لئے محنت کرنے یا تکلیف اٹھانے کی ضرورت ہی کوئی نہیں۔آپ مجھے صرف یہ بتائیے کہ خدایا ر اور عبد اللطیف کا ماننے ولا کوئی دنیا میں موجود ہے؟ لیکن ساری دنیا میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مسیح موعود کے ماننے والے پھیلے ہوئے ہیں۔آپ کو کیا مصیبت پڑی ہے، تلاش کر کے معلوم کرنے کی کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے؟ خدا کی تقدیر واضح کر چکی ہے۔جو سچا تھا، اس کے ساتھ خدا تعالیٰ نے بچوں والا سلوک فرمایا اور جو جھوٹے تھے، ان کے حق میں جھوٹوں والا سلوک رونما ہوا۔بہر حال جب یہ انٹرویو ختم ہوا تو اس کی باتوں سے ہمیں یہ محسوس ہوا کہ یہ انٹرویو کا میاب ضرور ہے، اس کے نزدیک۔کیونکہ وہ صاحب وعدے سے پھر گئے اور انٹر ویو نشر کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کی۔حالانکہ پکا وعدہ کر کے گئے تھے کہ فلاں دن میں یا انٹرویو نشر کروں گا۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگوں سے ڈر گئے۔حالانکہ خود بڑے شریف آدمی تھے۔مگر آج کل شرفاء کچھ زیادہ ہی دل کے کمزور ہوتے ہیں۔وہ جو نسبتاً زیادہ گندے ہیں، ان کو گندگی اچھالنے میں بڑی جرات ہے، ان کو بڑے حوصلے مل گئے ہیں۔اور شرافت بے چاری دبی ہوئی ہے، خاموش بیٹھی ہے۔حالانکہ کثرت سے ہے لیکن پھر بھی ڈرتی ہے۔بہر حال کچھ بھی وجہ ہو، انہوں نے انٹرویو لینے کے بعد خاموشی اختیار کی۔اب ایک بات ان کے ذہن سے اتر گئی تھی کہ آسٹریلیا کا ایک قانون ہے کہ اگر کوئی انٹرویو لینے کے لئے درخواست کرے اور انٹرویو لے تو اس کا فرض ہے کہ اس کو ضرور نشر کرے ورنہ اس کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ ہو سکتا ہے اور بڑا بھاری حرجانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔چنانچہ انبی بشیر احمد صاحب نے ، جو اللہ کے فضل سے غیر مبائعین سے آئے ہیں اور بڑے مخلص احمدی ہیں، انہوں نے فوراً اس کو شو کا ز show cause کا نوٹس دے دیا کہ بتاؤ کیوں نہ تم پر ہتک عزت کا اور حرجانہ کا مقدمہ کیا جائے؟ انہوں نے فور معذرت کی اور کہا: اگلے جمعہ ( 7 اکتوبر ) کو آپ سن لیجئے۔چنانچہ ان پچاس ہزار آدمیوں کو اللہ تعالیٰ نے میری آواز میں احمدیت کا پیغام پہنچانے کی صورت پیدا کر دی۔علاوہ ازیں جہاں تک آسٹریلیا کے انگریزی دان طبقے کا تعلق ہے، اس کو پیغام پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بڑے عجیب عجیب انتظام فرمائے۔وہاں ایک ایسا ریڈیو ٹیشن بھی ہے، جو اس لئے خاص طور 726