تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 715 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 715

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم خطاب فرموده 31اکتوبر 1980ء صاحب ظفر کو کہا کہ ایک درخواست دیتے ہیں حکومت کو کہ میں سال کے لیے ہمیں یہاں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں۔وہ مجھے کہنے لگے کہ آپ مانگتے کیوں نہیں کہ ہمیں دے دیں یہ مسجد ؟ میں نے کہا نہیں۔میں نے کہا، اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے گا، اپنی مسجدیں بنانے کی۔اس واسطے مانگنا نہیں۔وہ کہنے لگے، پھر سو سال کے لئے نماز پڑھنے کی اجازت مانگیں۔میں نے کہا، کیا با تیں کرتے ہو، سو سال؟ بیس سال کے اندر اندر اللہ تعالیٰ انقلاب بپا کرے گا۔( نعرے) چنانچہ ہم نے جب درخواست دی، جنرل فرینکو اس وقت زنده تھے، بڑے اچھے انسان، انہوں نے کہا، ان کے وزراء نے کہا، پوری کیبنٹ (Cabinet) نے کہا کہ ہم اجازت دے دیں گے، نماز پڑھنے کی یہاں۔لیکن دفتری کاروائی کرنی ہوتی ہے، چند ہفتوں تک آپ کو اجازت مل جائے گی۔میں نے بات کو اور پکا کرنے کے لئے مکرم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو سپین بھیجا اور کہا، آپ لاء منسٹر ( Law Minister ) سے ملیں اور ان سے بات کریں۔اس نے کہا، آپ خواہ مخواہ گھبراتے ہیں، ہو جائے گا سارا کام، بالکل فکر نہ کریں۔لیکن جب شروع میں مسلمانوں کو مغلوب کرنے کے بعد وہاں عیسائیوں کی حکومت بنی تو اس دستور میں یہ تھا کہ مسلمانوں کی جو جائیداد ہے، اس کے متعلق کوئی فیصلہ بھی لاٹ پادری ( کارڈ نیل Cardinal) کی منشاء کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ساری حکومت تیار دینے کو اور پادری صاحب نے کہا نہیں دینی۔وقت نہیں آیا تھا، ابھی تو نہیں ملی ہمیں۔خیر ہم نے کہا ٹھیک ہے۔اور ، دس سال گزرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی قرب قرطبہ میں مسجد بنانے کی۔ہاں ایک اور چیز بتا دوں۔اس وقت میری نگاہ میں دو جگہ کا انتخاب کیا، جہاں ہماری مسجد بن سکتی ہے، عوام کی طبیعت کے لحاظ سے۔ایک طلیطلہ، وہاں تھوڑی دیر کے لئے گئے اور طلیطلہ کے عوام نے ہم سے بڑے پیار کا اظہار کیا۔اور ایک قرطبہ، جس کے مکین ہنس مکھ، کوئی غصہ نہیں، کوئی پرانی عداوت نہیں، کوئی تعصب نہیں، بڑے پیار سے ملتے تھے۔ایسا پیار کہ قرطبہ کی مسجد دیکھ کر نکلے تو سڑک پار کتابوں کی دوکان تھی ، ہم وہاں چلے گئے۔میرا خیال تھا کہ کوئی انگریزی کی کتاب ملے تو تازہ کریں، اپنا علم۔کوئی ہیں، پچیس منٹ کے بعد جب باہر نکلے تو جس دروازے سے مسجد کے ہم نکلے تھے، وہاں دومیاں بیوی اور دو، اڑھائی سال کا بچہ ، جو انہوں نے اٹھایا ہوا تھا، کھڑے ہوئے تھے۔بچے نے ہاتھ ہلانے شروع کر دیئے۔مجھے بڑا پیار آیا۔ہماری موٹر کا منہ دوسری طرف تھا۔میں نے ڈرائیور کو کہا کہ یہ موڑ کے اس طرف لے آؤ، جہاں وہ بچہ کھڑا ہوا ہے۔جب وہاں گئے تو اس کا باپ کہنے لگا، آپ اس دوکان کے اندر جب داخل ہوئے ہیں، اس وقت اس بچے نے ضد کی کہ جب تک یہ باہر نہیں نکلتے ، میں یہاں سے نہیں بلوں گا 715