تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 714
خطاب فرمودہ 31اکتوبر 1980ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم ابھارے ہیں۔دو دو تین تین سوت تراشا ہے، سنگ کو۔بعض حصوں پر تو زمانے نے اثر کیا ہے۔لیکن بعض حصے ایسے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ کل لا غالب الا الله یہاں کندہ کیا گیا، اس پتھر پر۔اس محل میں ایک گنبد ایسا ہے، جس میں غار ثور میں جو مکڑی نے جالا بنا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کی حفاظت کے لئے۔خدا تعالیٰ نے عظیم نشان دکھایا تھا کہ دشمن سر پر آ گیا ہے تو مکڑی کے ذریعے سے وہ جال بن دیا، کبوتر آیا، اس نے گھونسلا بنا دیا۔اس حقیقت کو ایک گنبد میں ظاہر کیا ہے۔نہایت ہی خوبصورت طریق پر۔مکڑی کا جالا نہیں لیکن پتھر کو کچھ اس طرح تراشا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مکڑی نے جالا بن دیا اور اس کے ساتھ کبوتر کے گھونسلے بنادیے۔یہ پیار اسلام کے ساتھ اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور محمد کے رب کے ساتھ۔یہ شان وہاں نظر آئی۔دل بے چین ہو گیا۔70ء کی بات میں کر رہا ہوں۔خدا تعالی دعا کی تو فیق دیتا ہے۔اتنی سخت بے چینی اور کرب پیدا ہوا کہ میں ساری رات خدا کے حضور دعا کرتا رہا کہ خدایا! یا وہ شان تھی اور یا اس ملک میں ایک مسلمان بھی باقی نہیں رہا۔اپنی غفلتوں، کوتاہیوں اور گناہوں کے نتیجہ میں۔اور میں نے کہا ، اے خدا رحم کر اس قوم پر۔اسلام کی روشنی اور اسلام کا حسن پھر انہیں دیکھا۔اور اسلام کے جھنڈے تلے انہیں جمع کرنے کے سامان پیدا کر صبح کی اذان کے وقت مجھے خدا تعالیٰ نے بڑے پیار سے یہ کہا۔ومن يتوكل على الله فهو حسبه جو لوگ خدا پر توکل کرتے ہیں، ان کے لئے اللہ کافی ہے۔(نعرے) ومن يتوكل على الله فهو حسبه ان الله بالغ امره۔خدا تعالیٰ بڑی طاقت والا ہے۔اور جو چاہتا ہے، وہ کر دیتا ہے۔کوئی اس کو روک تو نہیں سکتا نا۔قدجعل الله لكل شئى قدرًا لیکن ہر چیز کے لئے اس نے ایک وقت مقرر کیا ہے۔ہوگا تو سہی یہ، یعنی تیری دعا تو قبول کی جاتی ہے، لیکن ہو گا اپنے وقت پر۔مجھے تسلی ہوگئی۔1970ء میں تعصب کا یہ حال تھا کہ طلیطلہ، جس کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے، وہاں ایک چھوٹی سی مسجد، یہ جو ہمارا انصاراللہ کا ہال ہے، اس سے بھی چھوٹی ٹوٹی پھوٹی ، ایک مسجد گردو غبار سے اٹی ہوئی دروازے کھلے، کوئی دیکھ بھال بھی نہیں اس کی ہورہی تھی، اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا ٹوٹا پھوٹا مکان۔میں نے کرم الہی 714