تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 960 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 960

اقتباس از خطاب فرموده 28 مارچ 1982ء تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم عاجزی اور انکساری سے کام لیتا ہے، اسے اللہ تعالی ساتویں آسمان تک پہنچا دیتا ہے۔ایک خدا کا یہ فعل ہے، جس نے اسے آسمان تک پہنچایا۔ایک اس بندے کا فعل ہے کہ اس نے اپنے متعلق فرمایا :- کرم خاکی ہوں تو کرم خا کی ہونے کا اعلان کر دیا۔کئی ایک نے اعتراض کر دیا کہ اپنے آپ کو انسان ہی نہیں سمجھتے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت دی گئی تھی کہ ساتویں آسمان تک وہی پہنچے گا ، جو کرم خاکی ہونے کا اعلان کرے گا۔یعنی اپنی عاجزی کو انتہاء تک پہنچا دے گا۔تو ہم نے ان کو بچانے کی جو کوشش شروع کی ہے، وہ اسلام کی اس تعلیم کے مطابق ہے۔اور وہ (غیر مسلم ) اسلامی تعلیم کی برتری کو تسلیم کرتے ہیں۔پھر حقوق کا قیام ہے۔نہ روس کو پتہ ، نہ سرمایہ دارانہ نظام کو پتہ کہ حق کیا ہے؟ مزدور اپنے حق کے حصول کے لئے Strike کرتا ہے۔بدقسمتی سے وہی مزدور یہ نہیں جانتا کہ میرا حق کیا ہے؟ میں کس کی تلاش میں ہوں؟ یہ میں نے ان کو بتایا۔میں ان کو بتا تا تھا اور وہ تسلیم کرتے تھے کہ جو تعلیم آپ ہمارے سامنے پیش کر رہے ہیں، وہ ہمارے اپنے ازم سے اور فلاسفی سے اور خیالات سے بہت زیادہ اچھی ہے۔لیکن وہ لوگ گند میں دھنسے ہوئے ہیں، جس چیز کو اچھا سمجھتے ہیں، اس چیز کو لینے میں ان کی گندی عادتیں روک بنی ہوئی ہیں۔یہ تبدیلی جو ہے، یہ سوائے دعا کے نہیں ہو سکتی ہے۔اس واسطے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے بڑی تاکید فرمائی ہے۔خصوصاً اسلام کی تبلیغ کے متعلق کہ مناظرے وغیرہ ہو چکے، جو ہونے تھے۔دوست دعاؤں کے ذریعہ سے اسلام کو غالب کرنے کی کوشش کریں۔اس لئے آپ نے یہ کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان کا دل خدا تعالیٰ کی دو انگلیوں میں پکڑا ہوا ہے۔اگر انگلیوں کو حرکت دے دے، اس کا زاویہ بدل جائے گا۔اس کے ذہن کے جو گندے خیالات ہیں، وہ خدا تعالیٰ کی ہلکی سی جنبش سے دور ہو جائیں گے۔لیکن ہمیں اس کے لئے بڑا مجاہدہ کرنا ہے۔ایک عظیم جہاد ہے۔تلوار کا نہیں بلکہ عاجزانہ اور متضرعانہ دعاؤں کے ساتھ جہاد کرنا ہے۔پس یہ وہ جہاد ہے، جو ہم نے کرنا ہے، نوع انسانی کی حفاظت کے لئے۔تاکہ نوع انسانی بھی اسلام کے وہ ثمرات حاصل کر سکے اور وہ لذت پاسکے، جس کو وہی جانتا ہے، جو اسے چکھتا ہے۔مثلاً جماعت احمدیہ بحیثیت جماعت (کمزور بھی ہیں، اس میں شک نہیں ) زندہ خدا سے زندہ تعلق رکھنے والی 960