تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 958
اقتباس از خطاب فرموده 28 مارچ 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم سامان پیدا کر دئیے تو پھر جو بچیں گے، وہی اس دنیا میں ہوں گے۔اور وہ اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گے۔اعتراض کی اس میں کوئی بات نہیں۔یہ درست ہے کہ ایک بہت زبر دست تباہی سے ڈرایا گیا ہے۔قرآن کریم کی پیش گوئیوں میں بھی اور انہی کی یاد دہانی کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی وضاحت کے ساتھ ان قوموں کو انتباہ فرمایا کہ تمہاری دنیوی طاقت تمہاری روحانی اور اخلاقی کمزوریوں کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی تباہی سے تمہیں نہیں بچا سکے گی۔اور یہ کوشش کرنا کہ زیادہ سے زیادہ انسان اس عالمگیر تباہی سے محفوظ کرلئے جائیں، یہ جماعت احمدیہ کی ذمہ داری بنادی گئی۔بہت اہم ذمہ داری ہے۔نوع انسانی کے نقطہ نگاہ سے جو ذمہ واری جماعت احمدیہ پر ہے، اس سے زیادہ ذمہ داری کسی جماعت پر نہیں۔اس وقت دو بڑی طاقتیں ہیں، جو بجھتی ہیں کہ نوع انسانی کے مسائل کو حل کرنے کی اجارہ داری ان کے ہاتھ میں ہے۔لیکن ان ہر دو میں سے کوئی ایک بھی انسان کو انسان کی حیثیت سے نہیں دیکھتی۔نہ ان کی کوششیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کی کوشش بھی انسان کی بھلائی اور بہبود کے لئے ہے۔ہر دو اپنے اپنے دائرہ میں اپنے مفاد کے لئے کام کر رہی ہیں۔اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ ان کے اپنے دائرے میں کوئی خوشحالی اور بہبودی کے سامان پیدا ہوں، ہر دو آپس میں متصادم ہیں۔اور یہ تصادم بڑے خطرناک نتائج پیدا کر رہا ہے۔لیکن جماعت احمدیہ کا کسی کے ساتھ کوئی تصادم نہیں۔ہمیں یہ کہا گیا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلو گے تو اپنے مقصود کو پالو گے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہم نے یہ سمجھا اور دنیا کو یہ سبق دیا۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ (الكهف: 111) کہ بشر بشر میں، انسان انسان میں، مرد عورت میں کوئی فرق نہیں۔تمام کے حقوق برابر ہیں۔اپنے اپنے دائرہ استعداد کے اندر ان کا حق قائم ہوتا ہے۔لیکن تمام کے حقوق برابر ہیں۔کسی ایک انسان کا حق بھی غصب نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ اس ایک انسان کے حق کے غصب کرنے میں نوع انسانی کی ہلاکت ہے۔قرآن کریم نے اعلان کیا تھا:۔مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا (المائدة: 33) 958