تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 78 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 78

خطبه جمعه فرمودہ 15 مارچ 1974ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم سے ہمیں ایمان اور یقین اور معرفت اور محبت اور ایثار کے مقام پر کھڑا کیا ہے۔اگر اس کا فضل نہ ہوتا تو یہ کمزور انسان ایک لحظہ کے لئے بھی ان تمام مخالفتوں کے ہوتے اس مقام پر کھڑا نہ رہ سکتا۔ہمارے سر اس کے حضور جھکتے ہیں، ہماری روح اس کی حمد سے بھری ہوئی ہے، ہم اس کے پیار کو دیکھتے ہیں، ایک لحظہ کے پیار کو دنیا کی ساری دولتوں سے زیادہ قدر والا اور زیادہ قیمتی پاتے ہیں اور اسے چھوڑ کر کسی اور طرف منہ نہیں کر سکتے۔دھوکہ میں ہیں وہ، جو جماعت کے متعلق اس کے خلاف کچھ سمجھتے ہیں۔اور مجنون ہیں وہ ، جو یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی دھن کے پکے لوگوں کا یہ گروہ ، جو احمدیت کے نام سے موسوم ہوتا ہے، یہ نا کام ہوسکتا ہے۔جو پیدا کرنے والے رب کی گود میں بیٹھ کر زندگی گزارنے والا، جو اس کے پیار کے ہاتھ کو اپنے سر پر اور اپنے سینہ پر اور اپنی پیٹھ پر پھرتے محسوس کرنے والا ہے، جس کے کان میں اس کی آواز آ رہی ہے کہ اسلام غالب آکر رہے گا اور تمہارے ذریعہ سے غالب آئے گا، جس کے دل میں یہ یقین ہے کہ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ خدا تعالیٰ کے وعدے پورے ہوتے ہیں، وہ قربانیوں سے ڈرا نہیں کرتا۔وہ اپنے مقام کو چھوڑا نہیں کرتا۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ مجنون ہے وہ ، جو یہ سمجھتا ہے کہ جماعت احمد یہ اپنے مشن ، اپنے مقصد میں کہ اسلام پھر دنیا میں غالب آئے ، ناکام ہوگی۔اسلام غالب آئے گا، انشاء اللہ۔اور احمد بیت خدا تعالٰی کے پیار کو حاصل کرے گی ، انشاء اللہ۔اس کے راستہ میں کوئی روک نہیں ہے۔چند دنوں میں آپ نے یہ نظارہ دیکھا۔آپ میں سے بھی کئی ہوں گے، جو یہ سمجھتے ہوں گے کہ اڑھائی کروڑ کی اپیل کر دی ہے، اتنی بڑی مالی قربانی تو شاید یہ جماعت نہ دے سکے۔لیکن ایسے بھی تھے، جنہوں نے مجھے یہ پیغام بھیجے، اللہ تعالیٰ انہیں جزا دے کہ آپ نے تھوڑی قربانی مانگی ہے، اڑھائی کروڑ سے بہت زیادہ مانگنی چاہئے تھی۔اپنے عمل سے انہوں نے ثابت کیا کہ جو کہا گیا تھا، وہ بھی دیا (یعنی اڑھائی کروڑ کے وعدے کر دئیے۔) اور جو امید ظاہر کی گئی تھی کہ پانچ کروڑ تک پہنچ جائے گا، اس خواہش کو بھی پورا کر دیا۔اور اس اصول کو بھی عملاً ظاہر کر دیا، جو اللہ تعالیٰ کا ایک اصول ہے، ایک بنیادی چیز ہے، بنیادی سلوک ہے، اس کا ہمارے ساتھ کہ جتنی ضرورت ہوتی ہے، اتنادہ سامان کر دیتا ہے۔اس لئے میں نے پچھلے خطبہ میں لاہور کی جماعت سے کہا تھا۔لاہور میں، میں نے خطبہ دیا کہ دراصل تو اڑھائی کروڑیا پانچ کروڑ یا نو کروڑ کا سوال نہیں۔اگر خدا تعالیٰ کے علم غیب میں غلبہ اسلام کے لئے ان پندرہ سالوں میں نہیں کروڑ کی ضرورت ہوئی تو اللہ تعالیٰ اپنے علم غیب کے نتیجہ میں جتنی بھی ضرورت ہوگی ، وہ تمہیں دے دے گا اور اس کے راستہ میں کوئی چیز حائل نہیں ہو سکے گی۔78