تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 927 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 927

تحریک جدید- ایک ابی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطاب فرموده 05 اپریل 1981ء پس خدا تعالیٰ نے جن باتوں کو ، جن صفات کے جلووں کو، جن بشارتوں کو ، جس تعلیم کے اجزاء کو اور حصوں کو آیات کہا ہے، اس کے ایک حصے سے اگر ہم غافل ہو جائیں، جس طرح دوسری دنیا اس کے دوسرے حصے سے غافل ہے تو ہم دونوں مفلوج ٹھہرتے ہیں۔پھر جہاں تک خالی ہونے کا تعلق ہے، ہم میں اور ان میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ہم مذہب کے نام سے خود کشی کرنے والے اور وہ دنیا کے نام سے خود کشی کرنے والے بن جاتے ہیں۔دنیا کا حصہ انہوں نے لیا، یعنی آیات کا اور جو روحانی اور اخلاقی حصہ تھا، آیات قرآنی کا، ان کو چھوڑ دیا۔اگر ہم اخلاقی اور روحانی حصہ قرآن کریم کا، جسے اللہ تعالی نے آیات کہا ہے، وہ تو لے لیں اور جو دوسرا حصہ ہے، آیات کا ، وہ چھوڑ دیں تو ہم بھی اتنے ہی مفلوج متصور ہوتے ہیں۔صرف فالج کی شکل بدلی ہوئی ہے۔کسی کے سر پر فالج ہوتا ہے، کسی کی لاتوں پر فالج ہوتا ہے۔ان کے سر پر ہو گیا، ہماری لاتوں پر ہو گیا۔اس لئے علم کا حاصل کرنا بڑا ضروری ہے۔پس یہ جو دنیوی علوم کہلاتے ہیں، ان کو حاصل نہ کرنا ، خدا تعالیٰ کی ناشکری ہے۔اور خدا تعالیٰ کی سب سے بڑی ناشکری اس میدان میں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے کسی شخص کو علم کے میدان میں آسمانی رفعتوں تک پہنچنے کی قوت اور استعدادی ہو اور وہ ناشکری کرے اور اس چیز کو بھول جائے۔اس واسطے یہ چیز میرے دماغ میں آئی ، جب میں نے تعلیم کا منصوبہ بنایا۔اس کا ایک حصہ یہ ہے کہ ہم قدر کریں گے، اگر تم خدا کے شکر گزار بندے بنو گے تو ہمارے دلوں میں تمہاری قدر پیدا ہوگی۔یہ جو انعام میڈل کے طور پر مقرر ہوئے ہیں، اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر تم دنیوی علوم کے میدانوں میں اللہ تعالیٰ کی آیات پر غور کر کے اس کی صفات کو سمجھو گے اور تم اپنے آپ کو اس قابل بناؤ گے کہ قرآن کریم کے سمجھنے کی زیادہ طاقت تمہارے اندر پیدا ہو جائے تو ہمارے دلوں میں تمہاری قدر پیدا ہوگی۔دوسرا حصہ اس کا یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ نے تمہیں قوت اور استعداد دی ہے، لیکن خدا تعالیٰ نے تمہیں اس قوت اور استعداد کے نشو و نما کے وسائل اس لئے نہیں دیئے کہ وہ ہمیں آزمانا چاہتا ہے تو ہم خدا تعالی کے شکر گزار بندے بنیں گے اور تمہارا جو حق ہے، وہ تمہیں دے دیا جائے گا۔یعنی پہلی شکل یہ تھی کہ تم شکر گزار بندے بنو گے، ہمارے دل میں تمہاری قدر پیدا ہوگی۔ایک دوسری شکل اس منصوبے کی یہ ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنیں گے اور علم کے میدان میں جو تمہارا حق ہے، وہ تمہیں دے دیں گے اور دعائیں کریں گے اور وسائل پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔تا کہ تم علم کے میدان میں ترقیات کی رفعتوں کو حاصل کرتے چلے جاؤ۔927