تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 896 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 896

اقتباس از خلاصه خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1981ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم حضور نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ بیان فرمایا کہ ” ان کی مستورات کو ایسی تربیت دی گئی تھی کہ ایک جنگ میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 40 ہزار تھی جبکہ مقابلہ میں تین لاکھ فوج تھی۔مسلمانوں کے جرنیل نے مسلمان عورتوں سے کہا، اگر دشمن کا دباؤ زیادہ پڑے اور مسلمان اپنی کم تعداد کی وجہ سے پیچھے ہیں اور بٹتے ہٹتے تمہارے خیموں تک پہنچ جائیں تو تم اپنے خیموں کی جو ہمیں اکھاڑ کر اپنے خاوندوں ، بھائیوں اور باپوں اور بیٹوں کو مارنا کہ تم بے غیرت ہو گئے ہو، دشمن کے مقابلے سے بھاگ رہے ہو۔چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا ہی ہوا۔اور جب مسلمان عورتوں نے اپنے مردوں کو غیرت دلائی تو وہ جوش میں پلٹ کر اس زبر دست طریق پر حملہ آور ہوئے کہ چالیس ہزار کے لشکر نے تین لاکھ کی سپاہ کو شکست دے دی“۔حضور نے ایک اور جنگ میں ایک تربیت یافتہ اور قوت ایمانی سے مالا مال عورت کا واقعہ بیان فرمایا کہ وہ جنگ سے آنے والی خبریں سن کر تڑپ کر اپنے گھر سے نکلی اور بتانے والے نے اسے بتایا کہ تمہارا فلاں رشتے دار مر گیا، فلاں مر گیا۔مگر وہ سنی ان سنی کر کے یہی کہتی رہی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اور جب اسے بتایا گیا کہ آنحضور خیریت سے ہیں تو اس نے کہا کہ پھر کسی کے مرنے کی کوئی پرواہ نہیں“۔حضور انور نے خواتین کو فرمایا:۔وو یہ سستیاں ترک کرنے کا زمانہ ہے۔آپ اپنے بچوں اور مردوں کے ساتھ اس مجاہدہ میں شامل ہو کر اللہ تعالیٰ کی اتنی نعمتیں حاصل کریں گی کہ آپ کی اولادیں اور نسلیں تک خوش ہو جائیں گی اور آپ کے لئے دعائیں کریں گی۔حضور نے فرمایا:۔وو ہر چیز بھول جاؤ اور صرف ایک بات یاد رکھو کہ ہم نے اپنے دین کو غالب کرنا ہے۔جو ذمہ داری ہم پر خدا تعالیٰ نے ڈالی ہے، اس کو پورا کرنے میں بھر پور مدد کرنی ہے۔مرد کیلا یہ کام نہیں کر سکتا۔اسے اپنی بیوی ، ماں، بہن اور بچوں کی مددضرورت ہے۔اسے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں اور اللہ تعالیٰ کے دین سے بغاوت کرنے والوں کا مقابلہ کرنا ہے۔896