تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 72
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 مارچ 1974ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ جس اصول کے ماتحت اللہ تعالیٰ اپنی اس محبوب جماعت کو مادی ذرائع سے نوازتا ہے۔جس قدر ضرورت پڑتی ہے، اتنا مال عطا کر دیتا ہے۔اسی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ ہمیں ایک دھیلا بھی ضائع کرنے کے لئے نہیں ملا۔جماعت کو بڑا محتاط رہنا چاہیے اور بڑی احتیاط کے ساتھ اپنے اموال کی حفاظت بھی کرنی چاہیے اور بڑی احتیاط سے ان کا خرچ بھی کرنا چاہیے۔بہر حال میں بتا یہ رہا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم اس صد سالہ احمد یہ جوبلی منصوبہ کی تکمیل کے دوران کسی ایسے مقام پر پہنچے کہ جہاں اشاعت اسلام ہم سے بیس کروڑ روپے کی قربانی کا مطالبہ کرے تو اللہ تعالیٰ میں کروڑ کے بھی سامان پیدا کر دے گا۔انشاء اللہ العزیز بہر حال ہمارے دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھرے ہوئے ہیں کہ وہ جو ایک دل کی آواز تھی اور جس کے متعلق مشورہ کرنے کے بعد میں نے یہی مناسب سمجھا تھا کہ میں اس کا مطالبہ نہ کروں لیکن اس کا اظہار کردوں۔آج خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ( اپنی گردنیں اوپر نہ اٹھانا کیونکہ اللہ تعالی کے فضل کے بغیر یہ کام ہو ہی نہیں سکتا تھا۔) اور محض اپنی رحمت سے اور محض اپنی برکت ہے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ تحریک کی گئی ، اڑھائی کروڑ روپے کی اور خواہش دل میں پیدا کی گئی تھی ، پانچ کروڑ روپے کی۔چنانچہ اس وقت تک پانچ کروڑ ، تین لاکھ سے بھی اوپر کے وعدے مل چکے ہیں اور ابھی ڈاک کے ذریعہ روزانہ وعدے موصول ہو رہے ہیں۔پس میری تو یہ دعا ہے اور ہر احمدی کی یہ دعا ہونی چاہیے کہ اے خدا! تو نے ہی اپنے قادرانہ تصرف سے غلبہ اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کو قائم کیا ہے۔اب اس غرض کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہو، مادی ذرائع ہوں یا غیر مادی ذرائع ہوں، اے خدا! تو اپنے فضل سے ان کے حصول کے سامان پیدا کر دے۔اور ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم تیری منشاء کے مطابق اسلام کو ساری دنیا پر غالب کر دیں اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیار بنی نوع انسان کے دل میں پیدا کر دیں۔ہم نے ایک عظیم منصوبہ کی ابتدا کی ہے، اے خدا! تو اپنے فضل سے اس منصوبہ کی کامیابی کے لئے جو سامان درکار ہیں ، وہ ہمیں مہیا فرما۔ہم نہ تو غیب کا علم رکھتے ہیں اور نہ ہماری نگاہیں اس دنیا کی زندگی کی وسعتوں کا احاطہ کر سکتی ہیں۔ہماری تو کوتاہ نگاہیں ہیں لیکن اے ہمارے رب! تو علام الغیوب ہے۔تیری نظر سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔تو اپنی متصرفانہ قدرتوں سے ایسے تغیرات رونما فرما جو غلبہ اسلام کے لئے ضروری ہیں۔اسلام کا عالمگیر غلبہ ہماری زندگی کا منتہائے مقصود ہے۔ہم میں سے ہر ایک آدمی کی بچہ ہو یا جوان، چھوٹا ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت یہی خواہش ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے غلبہ اسلام کو دیکھ لے۔72