تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 869 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 869

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 23 اکتوبر 1981ء حسین اور پرلذت انقلاب عظیم بپا کر دے گی اور جن کو وہ اپنی رحمت کے نتیجہ میں یہاں سزا نہیں دیتا اور دوزخ میں وہ چلے گئے ، وہ ان کی اصلاح کا سامان کرتا ہے، وہاں۔اس بات کو قرآن کریم نے کھول کے بیان کیا ہے۔مگر لوگ سمجھتے نہیں۔اور انسان جلدی تیار ہو جاتا ہے، اس کو جہنم میں پہنچانے کے لئے۔میرا اور تیرا کام ہی نہیں ہے، کسی کو جہنم میں پہنچانا۔خدا نے کہا ہے کہ میں اس لئے سزا نہیں دیتا تا کہ ان کو مہلت ملے کہ وہ تو بہ اور استغفار کریں۔اور میں ان کو معاف کروں۔رحمت نہیں ہے یہ۔کافر کے متعلق یہ الفاظ بولے، فاسق کے متعلق یہ الفاظ بولے، فاجر کے متعلق یہ الفاظ بولے، قرآن کریم میں منافق کے متعلق یہ الفاظ بولے اور مرتد کے متعلق یہ الفاظ بولے۔اور مرتد کے جو قرآن کریم نے معنی کیے تھے، آج دنیا ان معنوں کو بھی بھول گئی۔اس بحث میں ، میں اس وقت پڑنا نہیں چاہتا۔تو یہاں سزا نہ دینا، اس لئے ہے کہ شاید توبہ کرلے۔وہاں جہنم میں بھیجنا، اس لئے ہے کہ رحمت نازل ہو اور جتنی جتنی وہ اصلاح کرتا جائے، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے قریب ہوتا جائے۔ایک دن مجھے خیال آیا کہ قرآن کریم نے فرمایا:۔رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ (الاعراف :157) قرآن کریم نے یہ بھی کہہ دیا کہ میں شرک کو معاف نہیں کروں گا یہ کیا؟ دونوں میں جوڑ کیسے ، میرا دماغ جوڑے؟ تو خدا تعالیٰ نے مجھے سمجھایا کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ پوری سزا دوں گا ، مشرک کو۔یہ کہا ہے، معاف نہیں کروں گا۔یعنی سزا کچھ نہ کچھ ضرور دوں گا۔غیر مشرک کو پوری کی پوری معافی بھی مل سکتی ہے۔یعنی کسی ایک گناہ کی بھی سزا نہ ملے یا کسی ایک گناہ کے ایک ہزارویں حصے کی بھی سزا نہیں دوں گا۔پوری معافی مل جائے گی۔لیکن مشرک کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہوگا۔لیکن رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ ایک مشرک کو جو مستحق تھا کہ ایک کروڑ سال وہ جہنم میں گزارے، اسے ایک سال جہنم میں رکھ کر سزا دے دی اور پھر معاف کر دیا۔اللہ بڑا رحم کرنے والا ہے۔لیکن اس کی رحمتوں کو انسانی دماغ بعض دفعہ محدود کرنا شروع کر دیتا ہے۔اس واسطے مجھ سے تو کوئی پوچھے کہ کافر جہنم میں جائے گا؟ میں کہوں گا، مجھے کیا پتہ جائے گا یا نہیں؟ میرا کام ہی نہیں یہ۔میرا یہ کام ہے کہ اس کو سمجھاؤں۔اگر وہ کفر پہ مرے تو پھر میرا تو اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا۔میں اس دنیا میں ہوں، وہ چلا گیا یہاں سے۔پھر 869