تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 866
خطاب فرمودہ 23 اکتوبر 1981ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ قیامت والے دن سب سے پہلا سوال خدا تعالیٰ بندے سے یہ کرے گا، میں نے تجھے بڑی اچھی صحت دی تو نے اس سے کیا کام لیا۔دوسرا مطالبہ یہ ہے: ذہنی قوتوں کی نشو ونما کو کمال تک پہنچایا جائے۔اب جو پڑھنے والے بچے ہیں، بڑا ز ہین بچہ ہو، جس بچے میں خواہ کتنا ہی ذہین ہو، ذہنی آوارگی پیدا ہو جائے ، وہ پڑھائی میں اچھا نہیں رہ سکتا۔تو ذہنی قوتوں کی صحیح نشو ونما نہیں ہوگی۔اس کے اندر کوئی بدی نہیں ہوگی۔بہت سارے میں نے ایسے بچوں کو دیکھا ہے، کوئی بدی نہیں، کوئی بداخلاقی نہیں ہے، لیکن ذہنی آوارگی ہے۔وقت ضائع کرنا، گپیں مارنا، دوست مل گئے ہیں، لطیفے سنائے جارہے ہیں اور پڑھائی کی طرف توجہ نہیں۔یہ ذہنی آوارگی ہے۔میں اس ذہنی آوارگی کی بات کر رہا ہوں، اس وقت۔ذہنی قوتوں کی کامل نشو و نما کے لئے یہ ضروری ہے کہ ذہنی آوارگی سے بچا جائے۔اور پڑھائی پر توجہ قائم رکھنے کی عادت ڈالی جائے۔اور مجاہدہ کے ذریعے بتدریج ذہنی ورزشیں کرا کے زیادہ بوجھ ڈالا جائے ، ذہن کے اوپر۔عمر کے لحاظ سے بھی جوں جوں عمر بڑھتی جائے اور جسم کی طاقت بڑھتی جائے زیادہ گھنٹے پڑھنے والا ہو۔آکسفورڈ میں Balliol کالج کے طلبہ، جہاں میں پڑھ رہا تھا، جو اچھے ذہین لڑکے محنت کرنے والے تھے ، وہ کلاسز کے علاوہ اتوار سمیت ہفتے کے سات دن بارہ تیرہ گھنٹے روزانہ پڑھا کرتے تھے۔اگر ہم نے اس نوجوان نسل کا مقابلہ کرنا ہے تو کم از کم اتنا پڑھیں۔Plus ہماری دعا ئیں ، ان سے آگے نکل جائیں گے۔لیکن اگر ہم ناشکری کرتے ہوئے خدا کی ، ان سے کم پڑھیں اور دعا بھی نہ کریں تو ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔لیکن نہ کر سکنے کا زمانہ گذر چکا۔اب میں بتارہا ہوں آپ کو ، اب ہمیں کرنا پڑے گا مجاہدہ، ذہنی ورزش زیادہ بوجھ ڈالتے چلے جانا۔تیسرے یہ کہ چوکس اور بیدار رہنا۔اس کی بھی عادت ہوتی ہے۔دو آدمی گزرتے ہیں ایک راستے پر۔ایک شخص جو چوکس اور بیدار ہے، سوچیزیں اس کی نظر پکڑتی ہے۔اور ایک دوسرا شخص ہے، اس سے پوچھا جائے تو وہ ایک، دو سے زیادہ بتا ہی نہیں سکتا۔مشاہدہ کی عادت نہیں۔میں مثلاً یورپ میں پھرتا ہوں، میں آدھا تجربہ وہاں اپنی آنکھ سے حاصل کر لیتا ہوں۔ان کے درخت ، درختوں کی عمر، ان کے فاصلے، مجھے کسی سے پوچھنے نہیں پڑتے۔موٹر گزر رہی ہوتی ہے، میں اپنے اندازے لگاتا چلا جاتا ہوں۔تو یہ صرف میرے لئے دروازہ نہیں کھلا۔ہم میں سے ہر ایک کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے چوکس اور بیدار رہ کر زندگی گذارنے کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔866