تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 867 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 867

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم چوتھے : تیز نظر خطاب فرمودہ 23اکتوبر 1981ء یعنی اتنی تیز کہ جو دوسری نظر دس سیکنڈ میں اس چیز کو Grasp کرتی ہے، پکڑتی ہے، جزو د ماغ بناتی ہے، اس کے بیسویں حصے میں آدھے سیکنڈ میں وہی چیز اس کے دماغ کا جزو بن جاتی ہے۔جس کا مطلب ہے کہ مشاہدہ کی عادت ڈالنا اور اس عادت کی نشو و نما کو بھی کمال تک پہنچانا۔پانچویں یہ دہنی قوتوں کی نشو و نما کے لئے جو چیزیں چاہئیں ، وہ میں گنا رہا ہوں۔پانچویں چیز یہ کہ اس کا ئنات میں اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے غیر محدود تعداد میں بکھرے پڑے ہیں۔اس لئے ہمیں اپنے اندر یہ عادت پیدا کرنی چاہیے کہ ہم صفات باری کے جلووں سے پیار کریں اور ان کے مطالعہ سے فطری اور ذہنی لذت محسوس کریں۔بڑی عجیب ہے، یہ لذت۔مثلاً بارش ہوئی ، موسم بدل رہا ہے۔کھڑکی کے سامنے بیٹھ کر صبح کا ناشتہ کرتا ہوں۔سامنے دیکھتے ہیں میں بھی ، منصورہ بیگم بھی کہ درختوں کی شکل ہی بدلی ہوئی ہے۔ان کے اوپر سبزہ، خوبصورتی ، جوانی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود بھی اپنی اس وقت کی زندگی سے لذت محسوس کر رہے ہیں۔تو صفات باری سے پیار کرنا، ذہنی قوتوں کی نشو و نما کے لئے ضروری ہے۔اور صفات باری کے جلووں کے مطالعہ سے فطری ذہنی (میں نے جان کے فطری ذہنی“ کہا ہے کہ فطرت میں تو ہے۔ہمیں اس کو ذہنی بھی بنانا پڑے گا۔( یعنی کا نشس مائنڈ Conscious Mind) میں اپنے لانا پڑے گا ) ذہنی لذت محسوس کرنا۔یہ جو صفات باری کے جلوے ہیں، یہ بنیادی طور پر دو قسموں میں، دو گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔وہ جلوے، جن کے نتیجے میں ساری دنیا کے علوم اور سائنسز (Sciences) نکلیں۔اور وہ جلوے نمبر 2، جو سارے انسانوں کی ہدایت کا سر چشمہ ہیں۔قرآن کریم کی آیات۔ہماری زندگی کے ہر پہلو کے متعلق ہمیں ہدایات دے دی ہیں۔اور ہم سے وعدہ ہے، ہمیں خدا نے طاقت دی ہمیں خدا نے سمجھ دی ہمیں خدا نے بشارتیں دیں اور ان بشارتوں میں سے ایک یہ ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔اے تمام لوگو! سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے، جس نے زمین و آسمان بنایا۔وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا۔اور حجت اور برہان کی روسے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا“۔(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 66) 867