تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 854
اقتباس از خطبه عید الفطر فرموده 02 اگست 1981ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خود اور کہ ہے۔پیسے خود جمع کرتی ہے اور کرتی چلی جاتی ہے۔اور آہستہ آہستہ بناتی چلی جاتی ہے۔یہاں تک کہ اپنی محنت کی کمائی کو خدا کی عطا سمجھتے ہوئے اس کے حضور پیش کرتے اور خدا تعالیٰ کا گھر بنادیتے ہیں۔انَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ تو ہم آج اس لئے خوش ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں کہا کہ خوش ہو۔ہم اس لئے خوش ہیں کہ خدا تعالیٰ نے کہا کہ جن سے پیار کرتا ہوں، اس کا اظہار بھی کرتا ہوں۔اور پیار کا اظہار ایک نہیں، پیار کے ایک ہزار اظہار بھی نہیں۔سال کے دوران میں سمجھتا ہوں لاکھوں پیار کے اظہار ہوئے۔باہر کے مبلغ ، ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے احمدیت سے باہر، دنیوی لحاظ سے۔لیکن خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کواتنی عزت دی ہے، اپنی نگاہ میں اور اس کے نتیجہ میں نوع انسانی کے دل میں عزت قائم کی ہے کہ ہمارے مبلغ جو یہاں سڑکوں پر پھر رہے ہوں تو آپ پہچانتے نہیں کون پھر رہا ہے؟ جب افریقہ میں ہوں یا دوسرے ممالک میں ہوں تو سر براہ مملکت بھی کھڑا ہو جاتا ہے، جب وہ کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ان مبلغین کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ان کی ذاتی عزت نہیں، یہ ان کی عزت طفیلی عزت ہے۔اور انہیں ملی ہے، محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے طفیل۔پس کثرت سے درود کیا کرو، کثرت سے خدا کی حمد کیا کرو۔اور اس کی توحید کے نغمے، اس کی حمد کے ترانے گاؤ اور خوش رہو۔اس لئے نہیں کہ ہماری طاقت یا کوشش یا عمل کا کوئی نتیجہ نکلا۔بلکہ اس لئے کہ ہمارے حقیر اعمال کو اللہ تعالیٰ نے قبول کیا اور ہمارے لئے عید اور خوشی کا سامان پیدا کر دیا۔خدا کرے کہ ہمیشہ ہی ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشی کے سامان پیدا ہوتے رہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہماری حفاظت کرتے رہیں۔اور ہمارے مخالف کا ہر منصوبہ، جو حقیقتاً غلبہ اسلام پر اس کا وار ہے، اس کو وہ نا کام کرے۔اور اس کی منشاء اور اس کا ارادہ جلد ہماری زندگیوں میں پورا ہو۔اور نوع انسانی کے دل سارے کے سارے خدائے واحد و یگانہ کے لئے جیت لئے جائیں۔تا کہ ایک ایسی عید پھر ہم منائیں، جس میں ہر انسان شامل ہو۔اس لئے کہ ہر انسان اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر چکا ہو، اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کا۔خدا کرے وہ دن جلدی آئے۔آمین۔( مطبوعه روزنامه الفضل 24 اپریل 1982ء) 854