تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 835
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 22 مئی 1981ء جماعت کے ہر فرد کو عموماً اور ہر کارکن اور معلم اور مبلغ کو خصوصاً اپنا محاسبہ کرنا چاہیے خطبہ جمعہ فرمودہ 22 مئی 1981ء تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔”میری بیماری کی شدت تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دور ہو چکی ہے۔لیکن اس کے کچھ آثار بھی باقی ہیں۔اور یہ گرمی بھی میری بیماری بن گئی۔جب اوپر نیچے کام کی وجہ سے اور خدا کا قانون توڑنے کے نتیجے میں آگے پیچھے دو، تین لو لگنے کے مجھ پر حملے ہوئے ، اس کے بعد سے گرمی مجھے بے حد تکلیف دیتی ہے۔اور میں اس موسم میں بڑی نقاہت محسوس کرتا ہوں۔دعا کریں، اللہ تعالیٰ فضل کرے اور یہ تھوڑی بہت تکلیف جو باقی رہ گئی ہے، وہ بھی دور ہو جائے۔آج میں اپنے مضمون سے ہٹ کے کچھ باتیں کہنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو قائم کیا اور اس کی تدریجی ترقی کے وعدے دیئے، جو ہم نے گزشتہ بانوے سال میں پورے ہوتے دیکھے۔جب سے میں نے ہوش سنبھالی ہے، میں نے جماعت کو ایک چھوٹی اور کمزورسی حالت میں بھی دیکھا۔پھر بتدریج بڑھتے ہوئے ، آج اس مقام پر پہنچی ہوئی بھی دیکھ رہا ہوں کہ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا خطہ ہو، جہاں مضبوط احمدی جماعتیں قائم نہ ہو چکی ہوں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، اس نے ہماری حقیر قربانیوں کو قبول کیا اور اپنے وعدوں کو پورا کیا۔یہ بھی سوچتا ہوں، شاید ہم نے وہ شرائط تو پوری نہیں کیں، جو وعدوں کے پورا کرنے کے لئے اللہ تعالٰی نے بیان کی ہیں، قرآن کریم میں۔مثلاً اسی ایک مثال کو لے لیں، جو یہ وعدہ تھا کہ تم زندگی کے ہر شعبہ میں بالا دستی حاصل کرو گے۔خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے بشرطیکہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتے چلے جاؤ گے۔ایمان کے تقاضوں کو پوری طرح ادا کرنے والی تو جماعت ابھی نہیں بنی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے مغفرت کی چادر کے نیچے ہماری کمزوریوں کو چھپالیا اور اپنے وعدوں کو ہمارے حق میں پورا کر دیا اور آنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا ۖ أَفَهُمُ الْغُلِبُونَ ایک ایسی حقیقت بنادی ، ہماری زندگی میں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔(الانبیاء:45) 835