تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 836 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 836

خطبہ جمعہ فرمودہ 22 مئی 1981ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم میں کئی بار دوروں پر غیر ممالک میں گیا ہوں۔غیر مسلموں، عیسائیوں، جو خدا کے بھی منکر ہیں اور مشرکوں کو میں نے یہ دلیل دی کہ دیکھو، خدا نے یہ وعدہ دیا تھا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر صبح کا سورج جب طلوع ہوتا ہے تو وہ جماعت احمدیہ کو پہلے دن سے زیادہ طاقتور اور زیادہ تعداد میں دیکھتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی یہ مہربانیاں ہمیں غافل کرنے والی نہیں ہونی چاہئیں۔بلکہ اور زیادہ ہوشیار کرنے والی ہونی چاہئیں۔ہماری قربانیاں یا جو مطالبات اللہ تعالیٰ نے ہم سے کئے ہیں، اپنی راہ میں پیش کرنے کے لئے ، جو شرائط اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے لگائی ہیں، وہ قرآن عظیم کی عظیم تعلیم میں کھول کے بیان کر دی گئیں۔وہ صرف مالی قربانی نہیں، وہ صرف اعمال صالحہ کی قربانی نہیں۔( اعمال صالحہ بجالانے کے لئے بھی ایک قربانی دینی پڑتی ہے۔وہ صرف خدا تعالیٰ کی راہ میں مختلف قسم کے مصائب برداشت کرنے کی قربانی نہیں۔بہت سی قربانیاں ہیں، جو خدا سے پیار کرنے والی جماعت کو خدا کی رضا کے حصول کے لئے دینی پڑتی ہیں اور دینی چاہئیں۔کیونکہ جو پیش کیا جاتا ہے، حقیر ہے۔لیکن جو ملتا ہے، اس کی قیمت کا کوئی انداز نہیں۔تبلیغ تعلیم اسلامی یعنی جو اسلام کا حسن اور نور ہے، جو اس کی بنیادی خوبیاں ہیں اور جو اس میں قوت احسان ہے اور اس قدر موہ لینے والی جو تعلیم ہے، اس کو دوسروں تک پہنچانا، یہ جماعت کا کام ہے۔اور ایک وقت تھا کہ (مثلاً) افریقہ کے ممالک جو ہیں، مشرقی اور مغربی افریقہ کے ممالک، وہاں کوئی آدمی ایسا نہیں تھا، جو اسلام کے نور ، اس کے حسن ، اس کی قوت احسان اور دیگر خوبیوں کو پہنچانے کی اہلیت رکھتا ہو اور پہنچانے کی لگن رکھتا ہو۔اور اپنی زندگی کے ایک حصہ کو، بعض دفعہ بڑے حصہ کو، اس راہ میں خرچ کرنے والا ہو۔اپنی زندگی کے نسبتا کم حصہ کو دنیا کمانے پر خرچ کرنے والا اور زیادہ حصہ کو خدا کی رضا کے حصول کے لئے خرچ کرنے والا ایک بھی نہیں تھا۔باہر سے جاتے تھے، (یہاں سے ہمارے گئے ہیں) مبلغین ، بڑے فدائی، بڑے جاں نثار۔وہ وہاں کچھ لینے کے لئے نہیں گئے ، تجارت کرنے کے لئے نہیں گئے۔حالانکہ تجارت کی بڑی راہیں وہاں کھلی ہوئی تھیں۔لیکن ان کی ساری توجہ اس بات کی طرف تھی کہ قرآن کریم کی تعلیم سے ان لوگوں کو روشناس کرایا جائے۔پچھلے جلسہ سالانہ پر مصطفیٰ صاحب، جو تشریف لائے تھے سیرالیون سے اور بڑے سیاستدان اور وزراء میں سے تھے وہ، جب میں 1970ء میں گیا ہوں، ایک موقع پر تقریر کرتے ہوئے ، انہوں نے یہ کہا کہ جماعت احمدیہ سے پہلے ہم مسلمان اسلام کے متعلق اگر کسی مجلس میں بات ہو جاتی ، گردنیں جھکانے پر مجبور ہو جاتے تھے ، بات نہیں کر سکتے تھے۔پھر احمدی آئے۔پھر انہوں نے اسلام کی بنیادی طاقتیں جو 836