تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 804 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 804

ارشادات فرمودہ 30 مارچ 1980ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم تھر ڈ ڈویژن لی ہے، وہ جامعہ میں داخل نہیں ہوسکتا۔اور اول تو کوشش کرو کہ اچھی سیکنڈ ڈویژن ہو ، فرسٹ ) ڈویژن ہو۔بہت سارے لڑکے فرسٹ ڈویژن میں آگئے۔مولوی احمد خان صاحب نسیم مرحوم جماعت کے بڑے فدائی تھے۔انہوں نے اپنا ایک بچہ وقف کیا، نیم مہدی۔جو آج کل سوئٹزر لینڈ میں بہت اچھا کام کر رہا ہے۔اللہ تعالٰی اس کے کاموں میں اور بھی زیادہ برکت ڈالے اور جزا دے۔اس نے چوٹی کے نمبرلے کے میٹرک پاس کر لیا۔مولوی صاحب اس کو ساتھ لے کر میرے پاس آگئے۔کہنے لگے کہ کیا کرنا ہے، اس کا ؟ میں اس کو پہلے بی اے، ایم اے کروا کے وقف کروں یا ابھی کر دوں؟ میں نے کہا، چپ کر کے جاکے اس کو جامعہ احمدیہ میں داخل کروادیں۔وہ اتنا ذہین ہے کہ کوئی حد نہیں۔اس قسم کے اب بچے آرہے ہیں کہ ایک کو ہم نے کسی اور ملک کی زبان سیکھنے سویڈن بھیجا تو سویڈن کے مبلغ ایک دن مجھے کہنے لگے کہ یہ ہم سے بھی زیادہ تیزی سے زبان سیکھ رہا ہے۔خود جو زبان سیکھنے کے لئے نہیں گیا۔وہ ان کی شرط تھی کہ تھوڑی سی زبان ہماری آنی چاہئے تا کہ یہ استاد کی زبان سمجھ سکے۔سیکھنی اس نے کوئی اور زبان ہے۔تو ماشاء اللہ بڑے ذہین بچے جامعہ احمدیہ میں آرہے ہیں۔کچھ تھوڑی سی تختی بھی کرنی پڑتی ہے۔یہ جو نئے جامعہ سے نکل رہے ہیں، ان میں سے بہت بھاری اکثریت ایسی ہے، جو بڑے فدائی ، دعائیں کرنے والے، نتیجہ نکالنے والے نتیجہ تو اس وقت تک نہیں ملتا ، جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل پیچ میں شامل حال نہ ہو جائے۔لیکن جیسا کہ نظر آ رہا ہے کہ یہ دنیا میں انقلاب عظیم، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انقلاب تھا، اس نے اپنی انتہائی شکل میں بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ایک انقلاب عظیم بپا ہوا اور آپ کا message ( پیغام ) ساری دنیا کے نوع انسانی کے لئے ہے، وہ اپنے عروج پر پہنچ رہا ہے۔وہی چیز ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لیکن ہر نسل نے اپنی ذمہ داریوں کوادا کرنا تھا کرتے رہے۔ہمیں اپنی فکر کر نی چاہئے۔پس یہ بڑی جلدی تبدیلیاں آجائیں گی۔یہ آپ یا درکھیں۔یعنی یہ اس طرح ارتقائی تبدیلیاں نہیں ہوں گی۔جس طرح آنا فانا انقلاب آ جاتا ہے۔آم کا جو پودا آپ لگا دیتے ہیں، دسویں سال تخمی آم کو پھل لگتا ہے۔قوموں کو ترقی کے لئے تو کئی صدیوں تک جدو جہد کرنی پڑتی ہے۔مجھے کئی دفعہ بعض دوستوں نے پوچھا کہ یہ کس طرح ہو جائے گا کہ دنیا کے تو ایسے حالات ہیں؟ دنیا تو مانے گی نہیں۔دنیا تو اس طرف آتی نہیں۔دنیا تو عیش میں پڑی ہوئی ہے۔یہ ہے اور وہ ہے۔میں نے کہا، اسی طرح ہو جائے گا، جس طرح مکہ فتح ہو گیا تھا۔دودن پہلے کوئی مسلمان نہیں سمجھ سکا تھا کہ مکہ فتح ہو جاتا ہے۔دودن پہلے یہ حالت تھی اور دودن کے بعد 804