تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 803
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم ارشادات فرمودہ 30 مارچ 1980ء غلبہ اسلام اور جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں ارشادات فرمودہ 30 مارچ1980ء برموقع مجلس شوریٰ بات یہ ہے، جو انہوں نے بات کی ہے اور بڑی کی بات کی ہے کہ وقف زندگی باپ کر ہی نہیں سکتا۔وہ تو بچے نے خود کرنی ہے۔اس واسطے جن ماں باپ کے دل میں یہ خواہش ہے کہ میرا بچہ وقف کرے، ان کا یہ فرض ہے کہ بچپن سے ہی اس کے دماغ میں یہ بات ڈالتے رہیں کہ تم واقف زندگی ہو، تمہارے اوپر ذمہ داریاں ہیں، دوسروں سے مختلف۔اس واسطے اپنی عادات اپنے اخلاق کو نمایاں کرو اور ان کے اندر حسن پیدا کرنے کی کوشش کرو۔تا کہ تم اچھے مبلغ بن جاؤ۔دعاؤں کی عادت ڈالو۔باقی یہ جو تجویز ہے، اس کے بارہ میں پتہ لیا ہے، وہ تو یہ ہے کہ ہر عہدیدار کے لئے ضروری ہو کہ اس کا ایک بچہ وقف ہو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کا آخری بچہ بی ایس سی میں چلا گیا، وہ تو عہد یدار بن ہی نہیں سکتا۔کیونکہ وقف کرنے والا میٹرک کے بعد آتا ہے، بڑوں کو ہم لیتے ہی نہیں۔جس شخص کے سب سے چھوٹے بچے کی عمر 20 سال ہوگئی۔میں نے نیا قاعدہ بنایا ہے کہ بوڑھوں کے لئے انتظام کرو۔جامعہ احمدیہ میں تو صرف نو جوانوں کو لیا جاتا ہے، جن کی 17 سال سے زیادہ عمر نہیں ہوتی۔اب یہ دیکھیں ہمارے امراء میں سے بہت سارے بیٹھے ہوں گے، جن کا سب سے چھوٹا لڑکا 21-20 سال تک پہنچا ہوا ہے۔اگر یہ ریزولیوشن پاس ہو جائے کہ وہ ایسا بن نہیں سکتا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی بڑی عمر کا عہد یدار بن نہیں سکتا۔مرزا عبدالحق صاحب کو بھی آرام مل جائے گا۔پس یہ وقف ایک تحریک ہے، جو کی جارہی ہے۔ایک وقت ایسا بھی آیا ہے بدقسمتی سے کہ جب یہ شروع ہو گیا تھا کہ جو بچہ بالکل کسی کام کا نہیں ہے، اسے حافظ قرآن بنا دو۔اس طرح تم کیا عزت کر رہے ہو، قرآن کریم کی؟ اسی طرح جو بچہ پڑھائی میں سب سے کمزور ہے، جس نے تھرڈ کلاس لے کر میٹرک پاس کیا ہے، کوئی کالج لینے کے لئے تیار نہیں، اسے وقف کر کے جامعہ میں لے آؤ۔وہ زمانہ گزر گیا، الحمد اللہ۔اب تو یہ جو کہتے ہیں ناں کہ تعداد بڑھ گئی۔یہ اس ایک جب تعداد تھی اس وقت جب تھرڈ کلاس سے بھی نچلے حصے کے تھے، بچے میٹرک کے، وہ آکر داخل ہو جایا کرتے تھے۔ان میں سے ایک نے پاس کیا۔اب میں نے یہ حکم دیا ہے کہ کوئی بچہ ، جس نے 803