تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 63 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 63

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 22 فروری 1974ء یہی سمجھایا تھا کہ آپ وعدہ کر دیں، پچاس ہزار روپے کی بنیاد پر۔اور پچاس ہزار میں سے تین ہزار روپیہ ماہوار دینے کا وعدہ کر دیں اور دو سال کے بعد آپ کو تین ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ ملنے لگے، وہ آپ ادھر دے دیں اور گھر میں گزارے کے لئے کچھ نہ ہو اور خدا آپ کو یہ کہے کہ سارے کے سارے پیسے دے دو۔یہ بات تو نہیں ہے۔پس تم پہلے کہ دو کہ حالات کے مد نظر دو سالوں میں، میں اتنا دوں گا اور اس کے بعد جو نئے حالات پیدا ہوں گے، اس کے مطابق میں رقم کی تعیین کردوں گا۔یا تین ہزار جو عام آمد ہے، اس کے مطابق یہ وعدہ کرو اور ساتھ یہ کہو کہ جن سالوں میں میری آمد بڑھ جائے گی ، اسی نسبت سے جو آمد اور اس موجودہ وعدہ کی ہے، میں اپنا وعدہ بڑھا دوں گا یا اس نسبت میں کمی یا زیادتی کر دوں گا۔یہ کوئی ایسی تکلیف نہیں ہے، جس کا حل نہ ہو۔اس ضمن میں اس سے ملتی جلتی شکل یہ سامنے آتی ہے کہ ایک آدمی تین ، چار ہزار روپے تنخواہ پارہا ہے اور دو سال یا پانچ سال بعد اس نے ریٹائر ڈ ہو جانا ہے۔پھر تو اسے پنشن ملے گی۔یہ سارے حالات سامنے رکھتے ہوئے آپ اپنی نیت میں اخلاص پیدا کریں تو قطعا آپ کو کوئی گناہ نہیں ہوگا۔اپنے بدلے ہوئے حالات کے مطابق خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی دیتے چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے دروازے آپ کے لئے کھلتے چلے جائیں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔قرآن کریم نے خیر کے مقابلہ میں بڑی خیر کا وعدہ دیا ہے۔اور بعض جگہ تو کہہ دیا کہ اتنے گنازیادہ ثواب ملے گا۔اور بعض جگہ حد نہیں مقرر کی اور صرف یہ کہا کہ اس سے زیادہ ثواب ملے گا۔اب زیادہ جو ہے، وہ 50 فیصد بھی زیادہ ہے اور پچاس کروڑ فی صد بھی زیادہ ہے۔یعنی ایک نیکی کے مقابلہ میں پچاس لاکھ گنا ثواب بھی زیادہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے بڑی امید دلائی ہے اور بڑا تو کل دل میں پیدا کیا ہے اور بڑی بشاشت دل میں پیدا کی ہے۔اصل میں تصوریہ ہمیں دیا گیا کہ انسان کی قربانی کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جزا کی کوئی حد بست ہی نہیں ہے۔اخلاص پیدا کرتے چلے جاؤ اور اس کی رحمتوں سے حصہ لیتے چلے جاؤ۔پس اس قسم کی تفصیل سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔خلوص نیت کے ساتھ جو حالات ہیں لکھ دو یا اس کے مطابق نیت کر لو، اللہ تعالیٰ نواب دے گا اور اجر دے گا۔اس کی رحمتوں کے دروازے کھلیں گے۔بہر حال چار کروڑ تیس لاکھ تک ہم پہنچ چکے ہیں۔ابھی کچھ وقت باقی ہے اور ابھی بہت سے علاقے بھی باقی ہیں، جن سے وعدہ جات آنے ہیں۔مثلاً ایک ضلع کا مجھے علم ہے۔وہ کہتے ہیں ، ہم ہیں لاکھ سے آگے نکلیں گے۔اور ابھی تک میرا خیال ہے، سات، آٹھ لاکھ سے زیادہ بحیثیت مجموعی اس ضلع کے وعدے نہیں ہوئے ، جو ہم تک پہنچے ہیں۔یہ کام تو بشاشت سے ہونے والے ہیں اور ہوں گے۔63