تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 781
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خلاصه خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1980ء حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر غریب خاندان میں کوئی ذہین بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو اس پر ہمیں خرچ کرنا چاہئے۔صرف اس وجہ سے کہ اس کے والدین غریب ہیں، اس کو اس کے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔لیکن ضروری بات یہ ہے کہ استحقاق ہونا چاہئے۔بعض اوقات ساتویں، آٹھویں جماعت کے لڑکے کے والدین کی طرف سے خط آجاتا ہے کہ اس کا 400 روپیہ وظیفہ مقرر کیا جائے“۔حضور نے فرمایا کہ اس پر شاید کسی کو غصہ آتا ہو، مجھے تو نہیں آتا۔میں تو مسکرایا کرتا ہوں کہ والدین کو یہ تو فکر نہیں کہ سب سے آگے نکلنا ہے۔فکر بچے کے لئے چار سو روپے وظیفہ مقرر کرانے کی ہے۔بچے کو والدین کی زندگی کا معیار بلند کرنے کا ذریعہ بنانے کی اجازت تو نہیں دی جاسکتی“۔حضور نے فرمایا کہ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ سب کا میعار زندگی بلند ہو۔میں تو یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے بچے چھوڑ ان لوگوں کے بچوں کو بھی پڑھا سکیں، جو ابھی احمدی نہیں ہوئے۔لیکن والدین بلا استحقاق بڑے بڑے وظیفوں کا مطالبہ کر کے اپنے بچوں کو اپنا معیار زندگی اونچا کرنے کا ذریعہ نہ بنائیں“۔( مطبوعه روزنامه افضل 05 جنوری 1981 ء ) حضور رحمہ اللہ نے صد سالہ احمد یہ جو بلی فنڈ کا ذکر فرماتے ہوئے تعلیمی منصوبے کے اس پہلو کا بھی ذکر فرمایا۔حضور نے احمدی بچوں اور بچیوں کی لازمی تعلیم کے اس منصوبے پر بہت زور دیا۔اور اس بات کو دہرایا اور فرمایا کہ لڑکیوں کے لئے میں نے فی الحال مڈل تک تعلیم کو لازمی قرار دیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سی ایسی جگہیں ہیں، جہاں لڑکیوں کے لئے ہائی سکول نہیں، وہ مڈل تک تعلیم حاصل کریں“۔حضور نے فرمایا کہ میں ان کے اخلاق خراب کرنا نہیں چاہتا، اس لئے ان کو یہ نہیں کہوں گا کہ وہ کو ایجو کیشن ( مخلوط تعلیم ) کے اداروں میں داخلہ لیں۔وہ صرف مڈل تک پڑھیں“۔حضور نے فرمایا کہ ہم کوشش کریں گے کہ جہاں ہائی سکول نہیں، وہاں لڑکیوں کے لئے کو چنگ سنٹر بنا دیئے جائیں اور استانیاں رکھ کر انہیں پڑھایا جائے“۔781