تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 778
اقتباس از خلاصه خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1980ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم حضور رحمہ اللہ نے جینئس ذہن کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ فسٹ آنا یا دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنا اچھی چیز ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر پوزیشن حاصل کرنے والا جنینیکس ذہن بھی ہو۔ابھی میں نے بعض طلباء کو انعامی تمغار ان میں سے بعض جینئس ہوں گے بعض نہیں ہوں گے۔حضور نے فرمایا کہ ” میں نے پہلے بھی بطور مثال بتایا تھا کہ قریباً چار سال قبل ایک احمدی لڑکے نے ایم ایس سی فزکس میں اتنے نمبر حاصل کر لیے کہ اس کا نتیجہ اس خیال سے کچھ عرصہ کے لئے روک لیا گیا کہ اگر اتنے زیادہ نمبر دے دیئے گئے تو آئندہ اس کا ریکارڈ کون تو ڑے گا ؟ اس لڑکے کے نمبر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے قائم کردہ ریکارڈ سے زیادہ تھے۔حضور نے فرمایا کہ اس احمدی لڑکے نے جو نیا ریکارڈ قائم کیا تھا، گزشتہ سال ہماری ایک احمدی بچی نے پنجاب یونیورسٹی میں ایم ایس سی فزکس میں وہ ریکارڈ توڑ دیا۔الحمد للہ ثم الحمد للہ۔حضور نے ان ذہین ترین احمدی بچوں کے بارے میں بتایا کہ جو پہلا بچہ ہے، جس نے ریکارڈ توڑا تھا، اس نے پی ایچ ڈی کا کورس بھی ابھی ختم نہیں کیا کہ ایسے آکسفورڈ اور کیمبرج جیسی مشہور ترین یونیورسٹیاں لیکچر دینے کے لئے بلا لیا کرتی ہیں۔حضور نے فرمایا کہ ید اللہ کا کام ہے کہ وہ کسی کو اعلیٰ ذہن دے۔اور اس کو اعلیٰ ذہن دینے سے کوئی نہیں روک سکتا“۔حضور نے فرمایا کہ کرے گا“۔اسی لئے میں یہ امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آئندہ دس سال میں سو جینیس ذہن جماعت کو عطا حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس بات کے پیش نظر ایک تو بچوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اوقات اور صلاحیتیں ضائع نہ کریں۔اور دوسرے ان کے والدین اور سر پرستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ا کی صحیح تربیت کریں۔کیونکہ دہنی آوارگی ، دینی صلاحیتوں کو مجروح کر دیتی ہے۔اور دوسرے ان کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنی اولادوں کی صحت کا خیال رکھیں“۔778