تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 745
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم حضور نے یہ دلچسپ بات بتائی کہ دو خلاصہ خطاب فرمودہ 08 نومبر 1980ء قریب کے سکول کے نصف بچے تو ہیڈ ماسٹر کے منع کرنے کے باوجود پین میں مسجد کا سنگ بنیا درکھنے کی تقریب میں شامل ہونے کے لئے آگئے۔اس کے علاوہ عورتیں ، مرد، جوان، بوڑھے اور پھر اس سکول کے ہیڈ ماسٹر خود بھی آگئے۔اس طرح ایک وقت میں سات، آٹھ سو یا ہزار افراد شامل تھے اور کسی وقت بھی تین سو سے کم افراد شامل نہیں تھے۔حضور نے فرمایا کہ ان کی خوشی کا یہ حال تھا کہ ان کے جسم کے ہر پور سے خوشی چشمے کی طرح اہل رہی تھی۔لوگوں نے ہر وقت مجھے گھیرے رکھا۔بعض دفعہ میں رستہ بنا کر نکلا بھی مگر پھر بھی لوگ فورا ہی میرے گرد جمع ہو گئے۔حضور نے فرمایا کہ اس صورت حال میں، میں نے ایک دفعہ مذاقاً کہا کہ مجھے تو کوئی پوچھ ہی نہیں رہا۔اس پر کوئی صاحب ایک بوتل لائے ، جس میں سے میں نے چند گھونٹ پانی پیا۔کیونکہ اس وقت میر احلق خشک ہو چکا ا تھا۔پھر وہ لوگ مجھے اس میز پر لے گئے ، جس پر مہمانوں کے لئے مونگ پھلی، میوے، بوتلیں ، انگور اور دوسرے کھانے کی چیزیں پڑی تھیں۔حضور نے بتایا کہ لوگوں کا جوش و خروش اتنا تھا کہ وہاں پر بھی میں انگور کے صرف تین دانے اور تین گھونٹ پانی پی سکا“۔حضور نے فرمایا کہ میں بڑے بڑے گچھے انگوروں کے توڑتا تھا اور اگر کسی بڑے مرد یا عورت کو دیتا تھا تو وہ سارا خود نہیں کھاتے تھے بلکہ ایک ایک دانہ کر کے اور سب میں تقسیم کر کے اس طرح کھاتے ، جس طرح حضرت اقدس کے لنگر کا تبرک کھا رہے ہوں“۔حضور نے فرمایا کہ ” جب وہاں پر موجود احمدی احباب نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتے تھے تو وہاں کے بچے بھی اس کا جواب دینے میں شامل ہو جاتے تھے۔ان کو اللہ اکبر پوری طرح کہنا تو نہیں آتا تھا۔ان میں سے کوئی تو اللہ کہہ کر اور کوئی اللہ ہو کہہ کر رک جاتا تھا۔745