تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 735 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 735

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 07 نومبر 1980ء اس صدی نے ان کو، جن کے ذمے یہ سمجھا جاتا تھا کہ دین کو زندہ رکھنا ہے اور سنت نبوی کو قائم رکھنا ہے، ان کو اس طرح آسمان رفعت اسلام سے گرتے دیکھا، جس طرح بعض راتوں میں آپ تارے ٹوٹتے دیکھتے ہیں۔اور اسی زمانہ میں اسلام کے علم کلام میں وہ رفعت اور بلندی اور عظمت پیدا ہوئی، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں کہ مثلاً کیتھولزم (Catholicism) کیتھولک جو فرقہ ہے، یہ عیسائیوں میں سب سے مضبوط، سب سے امیر ، سب سے پھیلا ہوا، سب سے منتظم، سب سے طاقتور ہے۔اور سمجھتا ہے کہ ہم بڑے نہیم، بڑے زور آور ہیں، بڑے شاندار ہیں۔انہیں اپنے ماننے والوں کو یہ ہدایت دینی پڑی کہ نہ کسی احمدی سے تم نے بات کرنی ہے، نہ ان سے کوئی رسالہ وغیرہ لے کے پڑھنا ہے۔(نعرے) جہاں مغرور کو بلندی سے گرتے پایا، وہاں ایک طفل احمدیت کو رفعتیں حاصل کرتے ہوئے دیکھا۔ہمارا ایک بچہ مشرقی افریقہ میں تھا۔سات، آٹھ سال کی عمر میں۔(اب تو اس کی عمر زیادہ ہے، اللہ تعالیٰ اس کی زندگی میں برکت ڈالے۔) بچپن سے ہی اسے شوق تھا، تبلیغ کا۔اور اتوار کو وہ چھوٹے چھوٹے رسالے لے کے سڑک کی پیومنٹ (Pavement) پر کھڑا ہو جاتا اور جس شخص کے متعلق اندازہ لگا تا کہ یہ پڑھنا لکھنا جانتا ہے، اس کے ہاتھ میں کوئی رسالہ دے دیتا۔ایک دن اس نے دیکھا کہ ایک بڑے اچھے امیرانہ لباس میں ایک افریقین پاس سے گزر رہا ہے۔اس نے اس کے ہاتھ میں رسالہ دیا۔اس نے بڑی خوشی سے اس کو لیا اور چلتے ہوئے اس کو کھول کے پڑھنا بھی شروع کیا۔چند قدم آگے جانے کے بعد واپس آیا اور کہا، یہ لو پکڑو اپنا رسالہ۔اس نے کہا، کیوں کیا ہو گیا ہے اسے ؟ ابھی تو آپ نے بڑے شوق سے لیا تھا۔اس نے کہا تم احمدی ہو؟ اس نے کہا ، ہاں، میں احمدی ہوں۔کہنے لگا، ہمارے پر لیسٹ (Priest) نے ہمیں کہا ہے کہ کسی احمدی سے کوئی کتاب لے کے نہیں پڑھنی۔(نعرے) اسی زمانہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ (التكوين (11) کے جلوے دیکھے۔جو پہلی صدیاں تھیں، چودہویں صدی سے پہلے، وہ جہالت کی صدیاں تھیں۔کچھ ابھر رہا تھا علم۔لیکن اس طرح نہیں، جو چودہویں صدی میں ابھرا۔حقیقت یہ ہے کہ پین میں مسلمانوں کے زوال کے بعد یورپ کو علمی میدان میں بڑا دھکا لگا۔کیونکہ سپین کے مسلمان علمی میدان میں ان کے قائد اور استاد تھے۔اور اس کے نتیجہ میں ایک زمانہ آیا، جب ایک طرف مسلمان علم سے غافل ہو گیا 735