تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 734
خطاب فرمودہ 07 نومبر 1980ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم مسلمان کا منہ تو دیکھ لے کہ وہ کیسا ہوتا ہے؟ تو اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہوگی۔یعنی سارے ہندوستان میں ایک بھی مسلمان نہیں رہے گا۔یہ ان کے اندازے تھے۔اندازے اس وجہ سے تھے کہ عیسائی حکومتیں بڑی طاقتور تھیں، بڑی مالدار تھیں اور ان کے ساتھ چمٹا ہوا چرچ جو تھا، وہ بھی مالدار تھا اور ایکٹیو (Active) تھا۔اور ایک صاحب اقتدار حکومت کی زیر پرستی وہ کام کر رہا تھا۔اور کپڑے دینے کے لئے ان کے پاس ذرائع موجود تھے، دودھ بانٹنے کے لئے ، گندم تقسیم کرنے کے لئے ، طالبعلموں کو وظائف دینے کے لئے سامان تھے۔اور ہر طرف برٹش ایمپائر کا نام تھا۔اور پادری کے ہاتھ میں خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا تھا اور وہ اسے بڑے جوش و خروش سے لہرا ر ہے تھے۔اسی زمانہ میں اس حد تک پہنچے کہ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ زمانہ عنقریب آنے والا ہے، جب مکہ پر خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا لہرائے گا۔یا اس قسم کے کوئی الفاظ تھے۔اور جھوٹی خوشیوں سے معمور، فخر سے گردنیں تانے ہوئے ، بڑے جوش کے ساتھ وہ بڑھتے ہوئے چودہویں صدی میں جب داخل ہوئے تو ان کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، جو خدا تعالیٰ کے ایک زبر دست جلالی جرنیل تھے، ان کا ایک شاگر دروحانی فرزند کھڑا تھا۔جس نے کہا، بس آگے نہیں بڑھنا۔( نعرے) یہ دیکھا چودہویں صدی نے اپنی ابتدا میں۔پھر چودہویں صدی نے جہاں ذلتیں دیکھیں اسلام کی ، جہاں تنزل دیکھا اسلام کا، ہماری اپنی غلطیاں تھیں، کوتا ہیاں تھیں، وہ بھی ہم نے دیکھنا تھا۔وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ سو سالہ پہلے کی عظیم پیشگوئیاں پوری ہوتے دیکھیں۔ایک نہیں، دو نہیں بلکہ یہ زمانہ ان عظمتوں سے بھر پور دیکھا۔اس زمانہ میں ضعف بھی ہوا اور اس صدی نے اسلام کا ضعف بھی دیکھا۔اس صدی نے اسلام کی عظمت اور جلال بھی دیکھا۔اس صدی نے إِذَا الشَّمْسُ كُورَتْ (التكوين 02) محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، جو حقیقی سورج تھے اس عالمین کے، ( یہ ہمارا سورج تو اس کے مقابلے میں کچھ چیز نہیں ہے۔) ان کے اوپر غفلتوں کا اور عدم شناخت کا پردہ بھی دیکھا۔اور اسی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتوں کے نشان بھی دیکھے۔(نعرے) وَإِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ 734 (التكوين 03)