تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 58
خطبہ جمعہ فرموده 22 فروری 1974ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم دیا تھا کہ یہ پانچ کروڑ تک بھی پہنچ سکتا ہے۔غالبا گذشتہ سے پیوستہ خطبہ جمعہ میں، میں نے کہا تھا کہ جماعت کا وعدہ چار کروڑ روپے کے قریب قریب پہنچ گیا ہے۔کل جور پورٹ مجھے ملی ہے اور جس کے تیار کئے جانے کے بعد لاکھوں روپے کے وعدے مجھے ملے ہیں اور جو بھی دفتر میں نہیں پہنچے۔جو وعدے میرے پاس آتے ہیں، وہ میرے دفتر میں جاتے ہیں۔پھر جس دوست کو میں نے مقرر کیا ہوا ہے، اس کے پاس جاتے ہیں۔میرا اندازہ ہے کہ وہ بھی بارہ ، پندرہ لاکھ کے قریب ہوں گے، جو ابھی تک اس میں شامل نہیں کئے گئے۔وعدہ بھیجوانے کی آخری تاریخ میں ابھی وقت باقی ہے۔بیرون ملک جماعتوں میں سے ابھی بہت سی رجسٹر ڈ جماعت ہائے احمد یہ ہیں، جن کی طرف سے ابھی وعدے نہیں آئے۔خود پاکستان کے بہت سے ضلعوں سے مجموعی وعدے ابھی نہیں آئے۔انفرادی وعدے یا جو جماعتیں مختلف ضلعوں میں ہیں، ان میں سے بعض کے وعدے ابھی پہنچے ہیں۔بیرون ملک جو جماعت ہائے احمد یہ ہیں، ان کے متعلق میں نے رجسٹرڈ" کا لفظ عمداً بولا ہے۔اس لئے کہ ہمارے بہت سے نوجوانوں بلکہ بعض بڑی عمر کے لوگوں کو بھی شاید یہ علم نہ ہو یا شاید ان کے ذہن میں یہ بات مستحضر نہ ہو کہ مختلف ممالک میں جہاں جماعتیں مضبوط ہو چکی ہیں، وہاں جماعت احمد یہ مستقل حیثیت میں ایک رجسٹر ڈ جماعت ہے۔اور وہ صدر انجمن احمد یہ یا تحریک جدید انجمن احمدیہ کے اس طرح ماتحت نہیں، جس طرح وہ خلافت کے ماتحت ہیں۔خلافت کے ماتحت تو ساری دنیا کے مبائع احمدی ہیں کیونکہ بیعت ہی اطاعت کی ہے۔اور نیکیوں کی جو ترغیب دی جاتی ہے اور قربانیوں کی جو اپیل کی جاتی ہے، اس میں سب اسی طرح بشاشت کے ساتھ لبیک کہتے ہیں، جس طرح کسی دوسرے ملک کے احمدی لبیک کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ) مثلاً انگلستان کا اپنا دستور ہے اور وہاں رجسٹر ڈ جماعت ہے۔اسی طرح افریقہ کے ممالک اور یورپ وغیرہ میں ان کے اپنے رجسٹر ڈ دستور ہیں۔وہ صدرانجمن احمد یہ پاکستان کے ماتحت نہیں۔ویسے وہ صدر انجمن احمدیہ کی اس معنی میں شاخیں ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ساری دنیا کے لئے صدر انجمن احمد یہ کو قائم کیا تھا۔لیکن اس معنی میں شاخیں نہیں ہیں کہ ان پر پاکستان کا حکم لگنے لگ جائے۔ان پر انگلستان ہی کا حکم لگے گا۔اور جہاں تک دنیوی احکام اور قوانین کا تعلق ہے، ان پر انگلستان کے ہی احکام اور قوانین کی پابندی فرض ہے۔جو قوانین ہیں نائیجیریا کے، نائیجیریا کی جماعت پر ان کی پابندی لازمی ہے۔غانا، سیرالیون اور گیمبیا، جرمنی، ہالینڈ اور سوئٹزر لینڈ اور ڈنمارک وغیرہ وغیرہ ، درجنوں یسے ممالک ہیں، جہاں ہماری جماعتیں مضبوط ہو گئی ہیں۔وہاں ان کا اپنا ایک دستور ہے، جو وہاں اس ملک 58