تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 717
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم خطاب فرموده 31اکتوبر 1980ء کا نظارہ دنیا نے دیکھ لیا۔اور جہاں تک آنے والوں کا نظارہ تھا، آج دیکھ لو۔وسع مکانک چھ سال کے اندر جماعت تعداد کے لحاظ سے بھی ، پاکستان میں نیز بیرونی ممالک میں کہیں سے کہیں پہنچ گئی۔(نعرے) یہ بھی ایک پس منظر ہے، واقعات بعد میں بتاؤں گا۔ایک اور پس منظر یورپ میں فن لینڈ کے علاوہ سیکنڈے نیویا کے تین ملک ہیں۔ڈنمارک، سویڈن اور ناروے۔ناروے میں سب سے بڑی جماعت ہے۔اور وہاں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی ، جہاں نماز پڑھی جاسکے، بچوں کی تربیت و تعلیم کا انتظام ہو سکے۔بڑی مشکل تھی۔طبیعت میں پریشانی تھی۔1978ء میں میرے وہاں جانے سے پہلے ناروے کے پرانے شہر کے ساتھ جو ایک سیٹلائٹ ٹاؤن بن رہا تھا، نئی میونسپلٹی وہاں بنا دیتے ہیں، زمین دینے کا میئر نے وعدہ بھی کیا اور مکر گیا۔جب میں وہاں پہنچا تو معلوم ہوا ، ایک مکان مل رہا تھا، کوئی پندرہ یا میں لاکھ روپے کا۔تو میں نے جماعت کو کہا ، سروے کروا کے لے لو۔اور یہ خیال ہی نہیں کیا کہ پاکستان سے تو ہم پیسہ بھی نہیں بھیج سکتے۔یورپ میں یا بیرون پاکستان کسی اور جگہ اتنا روپیہ بھی پڑا ہے یا نہیں؟ اس کے بعد لندن آئے۔میں نے جائزہ لیا تو میں نے فون کیا ان کو کہ اس عمارت کی خرید کے لیے ہمارے پاس پیسے نہیں، اس واسطے چھوڑو، اس کو۔یہ 1978ء کی بات ہے۔اور اس سال جس مسجد اور مشن ہاؤس کا میں نے افتتاح کیا، ناروے میں، یہ پہلے مکان سے ڈیرھ گنا بڑا مکان ہے۔نہایت اچھی لوکیلٹی (Locality) شرفاء کا محلہ، جہاں کوئی نعرہ بازی بھی نہیں ہوتی۔دنیا کے ہر ملک میں نعرہ باز بھی ہیں، اچھے لوگ بھی ہیں، برے لوگ بھی ہیں۔نہایت شریف لوگوں کا وہ علاقہ ہے۔اور تین منزلہ وہ مکان ہے اور بڑا اچھا بنا ہوا۔مرمت طلب تھا، پر انا مکان تھا۔تقریباً تیں، پینتیس لاکھ کی اس کے لیے ضرورت پڑی تھی۔پچھلے سال خریدا گیا تھا اور اس سال میں نے اس کا افتتاح کیا ہے۔اور انگلستان، ناروے، سویڈن، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزر لینڈ، ان ملکوں میں اتنا پیسہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ ہم اس کی قیمت ادا کر دیں گے۔اور وہاں کے میئر مجھے کہنے لگے ، آپ نے بڑا خرچ کر دیا۔میں نے کہا، خرچ تو بڑا نہیں۔کیونکہ ہماری ضرورت کے مطابق ہے۔کئی سواحمدی تھا، ان کے بچوں کی تربیت نہیں ہو رہی تھی ، نمازیں اکٹھے پڑھنے کا انتظام نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ کے انعامات، جو بارش کی طرح برستے ہیں، ان تک وہ پہنچتے نہیں تھے۔ان باتوں سے تقویت ایمان ہوتی ہے۔کوئی جگہ ہی نہیں تھی ، آپس میں مل بیٹھنے کی۔یہاں بھی آپ مساجد بنایا کریں۔کیونکہ جوگھروں میں پڑھتے ہیں نا نماز باجماعت، بعض جب چھوٹی سی رنجش ہو جائے آپس میں تو ایک دوسرے کے گھر نماز پڑھنے کے لئے بھی نہیں آتے۔بڑی بری بات 717