تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 697
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم ارشادات فرموده دوران دوره (مغرب) * 1980۔سال میں ہر احمدی ایک کروڑ بن جائے تو یہ تعداد دنیا کی آبادی سے بھی بڑھ جاتی ہے۔میں اس تعداد کی بات نہیں کرتا ، جو دنیا کی آبادی سے بھی آگے نکل جاتی ہے۔میں صرف دنیا کی آبادی کی بات کرتا ہوں۔اور یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دنیا کی آبادی کا مسلمان ہو جانا، ناممکن نہیں ہے۔اسی لئے کہتا ہوں کہ احمدی ساری دنیا میں پھیل جائیں گئے۔حضور نے جماعت کی تدریجی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے مزید فرمایا:۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ سب مذاہب کی اصلاح کرنا چاہتے تھے، اس لئے سب متحد ہو کر آپ کے مخالف ہو گئے۔اس کے باوجود آپ کی قائم کردہ جماعت رفتہ رفتہ ترقی کرتی چلی گئی۔ہر دن جو چڑھتا ہے، وہ جماعت کو زیادہ مضبوط اور طاقتور بنانے کا موجب بنتا ہے۔گذشتہ پچاس سال کے دوران ہم افریقہ میں پانچ لاکھ عیسائیوں کو مسلمان بنا چکے ہیں۔میں اسلام کے ساری دنیا میں غالب آنے کے بارہ میں پر امید ہی نہیں، پر یقین ہوں۔اس لئے بھی کہ حالات اور زمانہ کی حرکت ہمارے حق میں ہے۔عیسائیت کی ناکامی اس امر سے ہی ظاہر ہے کہ گر جاؤں پر برائے فروخت کے بورڈ لگے ہوئے ہیں۔اگر عیسائیت نا کام نہ ہوئی ہوتی تو نئی نسلوں کے لئے مزید گرجے تعمیر کرنے کی ضرورت پڑتی اور پرانے گر جاؤں پر برائے فروخت کے بورڈ آویزاں کرنے کی نوبت نہ آتی۔18 اگست، لیگوس (مطبوعه روزنامه الفضل 18 جنوری 1981ء) دوره نائیجیریا کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔نائیجیریا میں میرا یہ دوسرا دورہ ہے۔میں اس سے قبل 1970ء میں پہلی بارنا کیجیر یا آیا تھا۔میں احباب جماعت سے ملنے کے علاوہ بعض امور کا جائزہ لینے آیا ہوں۔مثلاً یہی کہ گزشتہ دس سال میں جماعت نے کیا ترقی کی ہے؟ اور تبلیغ اسلام کے جو نئے منصوبے شروع کئے گئے تھے ، ان کو عملی جامہ پہنانے میں کہاں تک کامیابی ہوئی ہے؟ اور اس کے کیا نتائج برآمد ہوئے ہیں؟ پھر میں اہل نائیجیریا کو یہ پیغام دینے یہاں آیا ہوں کہ کسی سے نفرت نہ کرو بلکہ سب سے یکساں طور پر محبت سے پیش آؤ۔قرآن مجید نے مساوات انسانی پر بہت زور دیا ہے۔اگر قرآنی تعلیم پر عمل کیا جائے تو دنیا سے ہر قسم کے جھگڑے مٹ سکتے ہیں اور یہ دنیا امن و آشتی کا گہوارہ بن سکتی ہے۔افریقہ کے ترقی پذیر ملکوں کی حالت بہتر بنانے کے سلسلہ میں جماعت احمدیہ کی خدمات سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔697