تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 691 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 691

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم 23 جولائی، کوپن ہیگن ارشادات فرمودہ دوران دورہ مغرب 1980ء ایک دوست نے سوال کیا کہ اہل ڈنمارک تک اسلام کا پیغام زیادہ مؤثر طریق پر پہنچانے کے لئے مزید کیا کچھ کرنا ضروری ہے؟ اس کے جواب میں حضور نے فرمایا:۔”جہاں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کا تعلق ہے، مبلغ اسلام کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری اتنی ہی ہے کہ ہم اپنی سے مقدور بھر کوشش کریں۔کسی کو مسلمان بنانا، ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔یورپ، امریکہ اور ان کے زیر اثر علاقوں میں ہمارے لئے مشکل یہ ہے کہ وہ محض زبانی تبلیغ سے اسلام قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔اگر وہ اسلامی تعلیم کے قائل ہو بھی جائیں اور اکثر قائل ہو بھی جاتے ہیں، وہ اسے قبول کرنے کے لئے ، اس وقت تک تیار نہیں ہوں گے، جب تک ان کے سامنے اسلام کے پیش کردہ نظام کا عملی نمونہ نہ آئے۔جہاں تک ان اقوام کے قبول اسلام کا تعلق ہے، اس کے لئے دو باتیں ضروری ہیں۔اول یہ کہ ہم انہیں یہ یقین دلانے کی کوشش کریں کہ ہم جو کچھ انہیں پیش کر رہے ہیں، وہ اس سے بہتر اور برتر ہے، جو پہلے سے ان کے پاس ہے۔اس کے نتیجہ میں وہ اسلام کی فضیلت کے تو قائل ہو جائیں۔اس امر کے لئے کہ وہ اسلام کو قبول بھی کر لیں ، اسلام کے عملی نمونہ کی ضرورت ہے۔یہاں کے لوگ اس سے مطمئن نہیں ہیں ، جو ان کے پاس ہے۔وہ اس سے بہتر اور برتر کی تلاش میں ہیں۔لیکن وہ اسلام کو جو یقیناً سب سے بہتر اور افضل و اعلیٰ ہے، قبول اس وقت کریں گے، جب ہم ہر حرکت و سکون میں اسلام کا نہایت حسین عملی نمونہ ان کے سامنے پیش کریں گے۔بہترین طریق ان قوموں کو مکمل تباہی سے بچانے کا یہ ہے کہ ہم تبلیغ کا فریضہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے عمل میں اسلام کا حسن اجاگر کر کے اسلام کا عملی نمونہ ان کے سامنے پیش کریں۔اور اپنے قول اور فعل سے انہیں اسلام کی طرف دعوت دیں اور دیتے چلے جائیں۔یہاں تک کہ وہ اسے قبول کرلیں۔29 جولائی، گوشن برگ حضور نے فرمایا:۔مطبوعه روزنامه الفضل 17 دسمبر 1980ء) کیپٹل ازم اور کمیونزم دونوں میں ہی خامیاں ہیں۔اور ان خامیوں کی وجہ سے نظریہ حیات کے طور پر میں دونوں ہی کے حق میں نہیں ہوں۔جہاں تک تبلیغ اسلام کا تعلق ہے، ان ممالک میں جو سپٹل ازم 691