تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 660
اقتباس از خلاصہ خطبہ جمعہ 04 جولائی 1980ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم حضور نے اس عظیم منصوبہ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالنے کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کے جلووں کو ، جو کائنات ارضی و سماوی میں ہر آن ظاہر ہورہے ہیں، آیات قرار دے کر اور ان پر غور کرنے والوں کو اولوا الالباب قرار دے کر دنیوی علوم کو روحانی علوم کی طرح ہی اہم قرادیا ہے۔اور ان دونوں علوم کو ایک دوسرے کا محمد و معاون ٹھہرایا ہے۔اس منصوبہ کی اہمیت یہ ہے کہ افراد جماعت کو دنیوی علوم سے درجہ بدرجہ آراستہ کر کے ان میں قرآنی علوم و معارف سے بہرہ ور ہونے کی اہلیت پیدا کی جائے۔کیونکہ یہ امر ظاہر وباہر ہے کہ ایک ان پڑھ کے مقابلہ میں ایک میٹرک پاس نوجوان قرآن کو سمجھنے اور اس کے علوم و معارف سے استفادہ کرنے کی زیادہ اہلیت رکھتا ہے۔اسی طرح درجہ بدرجہ ایف اے، ایف ایس سی بی اے، بی ایس سی اور ایم اے، ایم ایس سی پاس میں قرآن کو سمجھنے اور اس کے انوار سے منور ہونے کی اہلیت بڑھتی چلی جاتی ہے۔سو اس منصوبہ کا اصل اور بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہر احمدی اپنی اپنی استعداد کے مطابق دنیوی علوم میں دسترس حاصل کرے۔تاکہ وہ قرآنی علوم و معارف سے بہرہ ور ہو سکے۔اور اس طرح وہ قرآن کے حسن سے حسن لے کر اور اس کے نور سے نور حاصل کر کے اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کی آسانی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔اور اس بات کو سمجھ لے کہ اسلام کا موعودہ غلبہ ایٹم بم وغیرہ کے ذریعہ نہیں بلکہ علمی تفوق کی بناء پر ظاہر ہو گا۔حضور نے آخر میں یہ واضح فرمایا کہ د د تعلیمی منصوبہ صد سالہ احمد یہ جوبلی کے منصوبہ کا ایک حصہ ہے۔اور غلبہ اسلام کی آسمانی مہم سے اس کا گہرا تعلق ہے۔ہر علم کی بنیاد قرآن میں موجود ہے۔کوئی دنیوی علم ایسا نہیں ، جس کا اصولی اور بنیادی طور پر قرآن میں ذکر نہ ہو۔اس لئے دنیوی علوم کی تحصیل قرآن کے خلاف نہیں بلکہ اس کے عین مطابق ہے۔بلکہ قرآن کو سمجھنے اور اس سے ہر شعبہ زندگی میں رہنمائی حاصل کرنے کے لئے ان علوم کو حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔اور یہی اس منصوبہ کا اصل مقصد ہے۔حضور نے اس امر کا اظہار فرمایا کہ ” پاکستان کی جماعتوں میں اس منصوبے کو پورے طور پر نافذ کرنے کے بعد دو، تین سال میں دنیا بھر کی احمد نی جماعتوں میں اسے نافذ کر دیں گے“۔حضور نے فرمایا:۔دعا کریں کہ علمی ترقی کا یہ عظیم منصوبہ، جو خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے اور قرآنی علوم کے اسرار کو سمجھنے کی اہلیت پیدا کرنے کی غرض سے جاری کیا گیا ہے، ہر پہلو سے کامیاب ہو۔اور اس کے اعلیٰ سے اعلیٰ نتائج ظاہر ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کام میں میرے ساتھ تعاون کرنے کی توفیق عطا فرمائے“۔مطبوعه روز نامہ افضل 15 جولائی 1980ء) 660