تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 659
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خلاصہ خطبہ جمعہ 04 جولائی 1980ء اس ضمن میں حضور نے اشاعت قرآن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دن مجھے یہ بتایا گیا کہ تیری دور خلافت میں پچھلی دو خلافتوں سے زیادہ اشاعت قرآن کا کام ہو گا۔چنانچہ اب تک میرے زمانہ میں پچھلی دوخلافتوں کے زمانوں سے قرآن مجید کی دو گنا زیادہ اشاعت ہو چکی ہے۔دنیا کی مختلف زبانوں میں اب تک قرآن مجید کے کئی لاکھ نسخے طبع کرا کر تقسیم کئے جاچکے ہیں۔اس تعلق میں حضور نے ان نئی سہولتوں کا ذکر کیا، جو اشاعت قرآن کے سلسلہ میں بفضل تعالیٰ میسر آئی ہیں اور بتایا کہ پہلے یورپ کا کوئی اشاعتی ادارہ قرآن مجید شائع کرنے اور اسے خریدنے کے لئے تیار نہ ہوتا تھا۔لیکن خدا تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ ایک بہت بڑی اشاعتی فرم نے بہت بڑی تعداد میں قرآن مجید شائع کرنے اور اسے فروخت کرنے کا ذمہ اٹھایا ہے۔چنانچہ دو ہفتہ کے اندر اندر اس نے قرآن مجید کے بیس ہزار نسخے طبع کر کے مجلد حالت میں ہمارے ہاتھ میں پکڑا دیئے اور پھر ہم سے جماعت ہائے احمد یہ امریکہ نے ہمیں ہزار کے بیس ہزار نسخے خرید کر رقم ہمیں دے دی“۔اس کے بعد حضور نے فرانسیسی ، اٹالین اور سپینش زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم کی اشاعت کے انتظامات کی تفاصیل بیان فرمائیں اور بتایا کہ خدا نے چاہا تو چند سال تک یہ تراجم بھی شائع ہو جائیں گے۔مزید برآں دیباچہ تفسیر القرآن کا فرانسیسی ترجمہ طباعت کے لئے پریس میں جاچکا ہے اور اس کی پروف ریڈنگ ہورہی ہے۔اور آخری کا پیاں بھی اس کی مل چکی ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ یہ عنقریب کتابی شکل میں شائع ہو جائے گا“۔حضور نے فرمایا:۔یہ خدا کا کام ہے اور وہی اس کی انجام دہی کے سامان کر رہا ہے۔ہر احمدی کو چاہئے کہ وہ خدا تعالٰی پر کامل تو کل رکھے اور اسے ہی اپنا کارساز سمجھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کامل تو کل کے معنی یہ بتائے ہیں کہ خدا کے سواہر کسی کو لاشی محض سمجھو۔اور اس بات پر کامل یقین رکھو کہ جو کچھ کرے گا ، خداہی کرے گا۔وہی تمہاری حقیر کوششوں میں برکت ڈالے گا اور ان کے اعلیٰ سے اعلیٰ نتائج پیدا کر دکھائے گا“۔بعدہ حضور نے اسی تعلق میں تعلیمی ترقی کے عظیم منصوبہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ صد سالہ جوبلی کے منصوبہ نے سرمایہ مہیا کرنا تھا اور پھر اس مالی جہاد کے نتیجہ میں اشاعت اسلام کے عملی جہاد نے مختلف شکلیں اختیار کرنا تھیں۔سواس عملی جہاد کی ایک شکل تعلیمی اور علمی ترقی کا وہ عظیم منصوبہ ہے، جو غلبہ اسلام کے مقصد میں کامیابی کی غرض سے جاری کیا گیا ہے“۔659