تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 641
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 15 فروری 1980ء پہلوؤں کے لحاظ سے مرکزیت اور قیادت پاکستان کی جماعتوں کے ہاتھ میں ہے، اس لئے میرا فرض ہے کہ میں اپنی سی کوشش کروں کہ آپ کے ہاتھ سے یہ قیادت نکل کے کسی اور کے پاس نہ چلی جائے۔سوچو، غور کرو اور یہ عہد کرو، اپنے خدا سے کہ اے خدا! تو کہتا ہے پیار اور محبت سے رہو۔ہم آئندہ کبھی آپس میں لڑیں گے نہیں، پیار اور محبت سے رہیں گے۔تم یہ کہو اپنے خدا سے کہ اے خدا! تو کہتا ہے کہ لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ناجائز ، ناحق، جھوٹ اور فریب کے ذریعہ سے ایک دوسرے کے مال نہ کھایا کرو اور ہم عہد کرتے ہیں کہ کسی کا مال ناجائز اور حرام نہیں کھایا کریں گے۔احسان کریں گے، احسان لیں گے نہیں کسی کا۔تیرے بندوں سے پیار کریں گے ، حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے۔دکھ دور کرنے کی کوشش کریں گے، دکھ پہنچائیں گے نہیں۔نہ زبان سے، نہ ہاتھ سے ، خیالات میں بھی نہیں۔74ء میں جو کچھ ہوا، اس وقت میں نے جماعت سے کہا تھا اور جماعت نے ، میں خوش ہوں ، بڑا اچھا نمونہ دکھایا۔میں نے کہا تھا، جن لوگوں سے تمہیں دکھ پہنچ رہا ہے، جواب میں دکھ نہیں پہنچانا۔میں نے نہیں کہا تھا ، یہاں نہیں میں ٹھہرتا۔میں تمہیں یہ کہتا ہوں تمہارے دل میں بھی ان کے خلاف غصہ نہ ہو۔میں یہاں بھی نہیں ٹھہرتا تمہاری زبانوں پر ان کے لئے دعا ہو۔خدا کے حضور کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔بڑا ہم کام ہے، جو ہمارے سپرد ہوا۔بڑی اہم ذمہ داری ہے، اس شخص کی ، جس نے خود کو حضرت مسیح موعود کے دامن کے ساتھ وابستہ کر لیا۔جس نے یہ اعلان کیا کہ مہدی ، جس غرض کے لئے آیا ہے، اس غرض کو پورا کرنے کے لئے ہم ہر چیز کو قربان کر دیں گے۔تم اعلان یہ کرو اور تمہارا عمل کچھ اور ہو۔ہوتا ہے، اس طرح بھی۔لیکن اس پر خدا خوش نہیں ہوا کرتا۔اور اس کے نتیجہ میں وہ برکتیں اور رحمتیں حاصل نہیں ہوا کرتیں ، جن کا خدا تعالیٰ نے وعدہ دیا ہے۔اس کے نتیجہ میں وہ مقصد حاصل نہیں ہوتا ، جس مقصد کے لئے ہر فرد انسانی پیدا ہوا ، جس مقصد کے لئے جماعت احمدیہ کو قائم کیا گیا ہے۔کئی جگہ سے اطلاعیں آ جاتی ہیں کہ آپس میں لڑ پڑے، ذرا ذراسی بات پر تم جب تک مٹی نہیں بن جاتے ، جب تک تمہارا نفس مر نہیں جاتا، جب تک تم ہر دوسرے کے لئے اکسیر نہیں بن جاتے ، جب تک تم احسان اور پیار کا ابلتا ہوا چشمہ نہیں بن جاتے ، اس وقت تک اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر سکتے۔بہت سارے اور بھی خطبے دوں گا۔آپ پڑھا بھی کریں اور سنایا بھی کریں سب کو ، توجہ بھی دلایا کریں۔نو سال ہیں اس میں، یعنی اس صدی کے شروع ہونے میں جیسا کہ میں نے بتایا، میں نے سوچا، 641