تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 637 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 637

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 15 فروری 1980ء اتنی بڑی مسجد کوگر جا بنایا اور چند آدمی وہاں آئے ، عیسائی طریقے پر عبادت کرنے کے لئے۔میں جب 70ء میں اس مسجد کو دیکھنے گیا تو مجھے وہ گر جانظر ہی نہیں آیا۔پرانی عظمتیں اور ان کی یاد میرے ذہن میں آئی۔تو بڑی محبت کا اظہار کیا ہے اس زمانہ کے مسلمان نے خدا کے ساتھ اور خدا کے گھر کے ساتھ۔ہیرے، جواہرات اور سونے سے وہاں نقش و نگار کر دیئے تھے، جڑاؤ کا کام کر دیا۔اپنی جانوں پر، اپنی عورتوں پر ہیرے، جواہرات اور سونا خرچ نہیں کرتے تھے، خدا کے گھر پر خرچ کر دیا۔یہ لوٹ کے لے گئے۔ایک چھوٹا سا گر جا بنا دیا۔نظر میری اٹھی ان ستونوں پر، اس کی وسعت پر اور کسی نے مجھے کہا، وہ وہ وو دیکھیں ، ( وہ لمبا کیا، دوری بتانے کے لئے ) ایک گر جا بھی بنا ہوا ہے، اس مسجد کے اندر۔میں نے 70ء میں یہ تجویز کی کہ تم نے جو ہماری مسجدیں لی ہیں، ٹھیک ہے، حالات بدلے، لے لیں۔طلیطلہ میں ایک جگہ ایک چھوٹی سی مسجد ہے، جو اس مسجد سے قریباً نصف کے برابر ہے۔میں نے کہا، یہ ہمیں استعمال کے لئے دے دو، ہمیں سال کے لئے۔میں نے وہاں اپنے مبلغ کو کہا ، ہمیں سال میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اسلام کے حق میں، جماعت احمدیہ کے حق میں اس قسم کا انقلاب یہاں بپا ہو گا کہ اس کے بعد پھر یہ شکل بدل جائے گی۔اس واسطے ان کو کہو کہ بیس سال کے لئے نماز کے لئے استعمال کی ہمیں اجازت دے دیں۔ساتھ ان کے مشن ہاؤس بھی بن سکتا تھا۔حکومت کہے کہ ہم راضی ہیں اور ہمیں امید بندھ گئی۔لیکن جو وہاں کے سب سے بڑے بشپ تھے، انہوں نے کہا، ہم نے تو کوئی نہیں دینی۔ان کا وہاں بڑا اثر ہے، اس واسطے نہیں ملی۔پچھلے سال خدا تعالیٰ نے ایسا سامان پیدا کیا کہ وہ شہر قرطبہ، جہاں سب سے بڑی مسجد ہے، اس سے قریباً میں، بائیس میل کے فاصلے پر ایک زمین مل گئی ( مسجد اور مشن ہاؤس کے لئے ) اور اجازت مل گئی ، مسجد بنانے کی۔یہ سب سے بڑی چیز ہے۔مقامی منتظمہ نے بھی اجازت دی اور مرکزی حکومت نے بھی اجازت دی کہ بے شک یہاں مسجد بنالو۔اوسلو میں مل گئی، یہ زمین مل گئی۔فرانس اور بیلجیم اور اٹلی رہ گئے ہیں۔میرا خیال ہے اور ایک سال میں یہاں بھی مساجد کا انتظام ہو جائے گا۔یہ میں بتارہا ہوں کہ یہ بھی ایک تیاری تھی ، استقبال کی کہ ہر جگہ ہمارے مشن ہوں۔پھر قرآن کریم کی اشاعت کے بھی سامان پیدا ہو گئے۔جلسے پر میں نے بتایا تھا کہ امریکہ میں ایک مطبع خانہ ایسا ملا میں، جس سے ہمارا تعلق قائم ہو گیا ہے۔کوئی سات، آٹھ مہینے کی خط و کتابت کے بعد بہت سے جھگڑوں کے بعد وہ راضی ہوئے ، قرآن کریم ہمارے لئے چھاپنے کے لئے۔یہ مراحل جب طے ہو گئے تو چند دن کے اندر میں ہزار نسخے انہوں نے شائع کر دیئے۔اور اس طرح ہمیں امید بندھی کہ انشاء 637