تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 616
اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1979ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد پنجم تمہیں زندہ کیا۔آسمانوں سے تمہارے لئے زندگی لے کے آئی ہیں، وہ دعا ئیں۔ورنہ تمہاری حالت بیچنے والی نہیں تھی۔کہنے کو چھوٹا واقعہ ہے۔چھوٹا نہیں۔اس قدر پیار ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں انسان کے لئے۔خواہ وہ انسان زار روس ہے، خواہ وہ انسان حبشی غلام ، کوڑے کھانے والا ، تیپتی ریت پر لٹا کر اس کے اوپر پتھر رکھے جارہے ہیں، وہ ہے۔کوئی فرق نہیں کیا انسان، انسان میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے۔یہ تو اس وقت باتیں کرتے ہوئے آپ سے میرے دماغ میں ایک مثال آگئی۔ہزار ہا کتا بیں لکھی جاسکتی ہیں۔چھوٹی چھوٹی لکھیں، بچوں کے لئے۔ایک ایک واقعہ لکھیں۔حضرت بلال کے متعلق ہی اردو میں درجنوں کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔آئیں آگے لکھنے والے اور لکھیں۔اور آپ آگے آئیں اور خریدیں ان کتابوں کو۔تا کہ جو لکھنے والے اور طبع کروانے والے ہیں، ان کے پیسے ضائع نہ ہوں۔جو شخص مثلاً حضرت بلال پر یہ کتاب لکھ گیا۔مجھے یقین ہے کہ اس کے پیسے ضائع نہیں ہوں گے۔تو یہ تو میں نے بتایا نا سات کتابیں ہیں۔مجھے تو ایک، دو سال کے اندر اندرسات ہزار چاہئیں۔پھر ان کے ترجمے چاہئیں۔ان کا ترجمہ مجھے جرمن زبان میں چاہیے، انگریزی زبان میں چاہیے۔ان کا ترجمہ مجھے فریج زبان میں چاہیے، سپینش زبان میں چاہیے۔ان کا ترجمہ مجھے اٹالین زبان میں چاہیے۔ان کا ترجمہ مجھے یوگوسلاوی زبان میں چاہیے، جہاں کے احمدی کہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے لئے کتابیں دولا کے۔ان کا ترجمہ مجھے پولش زبان میں چاہیے۔ان کا ترجمہ ہنگری زبان میں چاہیے، جہاں ایک خاصی جماعت احمد یوں کی ہے۔کمیونسٹ ملک ہے، زیادہ باہر نہیں آتے ، ملاپ نہیں ان کے ساتھ لیکن کبھی کسی کے نام، پرانے واقفوں کے نام ان کا ابھی تک خط آتارہتا ہے کہ ہم احمدیت پر قائم ہیں، ہمیں عربی زبان میں کتا ہیں چاہئیں۔احیائے اسلام کے لئے ان باتوں کو مسلمانوں کے ذہنوں میں تازہ کرنے کے لئے۔جتنے ہمارے جماعتی یا نیم جماعتی اخبار وغیرہ ہیں، ان کو خریدنا چاہیے، ان کو پڑھنا چاہیے۔بہت کم توجہ ہے، اس طرف۔آپ حیران ہوں گے، اگر آپ ( آج کا نہیں میں کہتا ، جس وقت آکسفورڈ میں پڑھا کرتا تھا، اس وقت کی میں بات بتا رہا ہوں۔تھرڈ کلاس میں سوار ہو جائیں۔مزدوروں سے بھری ہوئی گاڑی ہر آدمی کے ہاتھ میں اخبار پکڑا ہوا ہے۔وہ اخبار پڑھ رہا ہے۔ساڑھے تین سالہ طالب علمی کا زمانہ، جو میں نے وہاں گزرا ہے، اس میں کسی ایک آدمی کو دوسرے سے اخبار مانگ کر پڑھتے نہیں دیکھا۔مانگتا ہی کوئی نہیں۔اپنا خریدتا ہے ہر شخص۔پھر رڈی میں یوں پھینک دیتا ہے وہ۔ان کے اخبار پھینکنے کے قابل ہیں لیکن پڑھنے کے قابل بھی ہیں۔جو پڑھنا ہوتا ہے، اس نے وہ پڑھ لیتا ہے، پھر پھینک دیتا ہے۔616