تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 615 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 615

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1979ء یہ کتا میں اس وقت جو مجھے دی گئی ہیں ان کی طرف سے، یہ ایک، دو، تین، چار، پانچ ، چھ سات ہیں۔مجھے سات نہیں چاہئیں، مجھے سات ہزار اس قسم کی کتاب چاہیے۔اور صرف اردو میں نہیں چا۔یعنی اس وقت جو کیفیت دنیا کے دماغ کی ہے نا اسلام کی با تیں سننے کے لئے تیار ہے، اثر قبول کرنے کے لئے تیار ہے۔چاہیے۔مجھے سوئٹزر لینڈ میں سوئس احمدیوں نے ، سوئٹزرلینڈ میں ان لوگوں نے ، جو احمدی نہیں، بعض دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے ہیں، انہوں نے الحاج کے ساتھ اور اصرار کے ساتھ مجھے کہا کہ ہمارے بچوں کے لئے کتابیں آپ شائع کریں۔انہیں کچھ پتہ نہیں اسلامی تعلیم ، اسلامی تاریخ کا۔اتنے واقعات، اتنے واقعات حسین، پیارے، سبق آموز ، محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان کے نتیجہ میں چودہ سو سال میں رونما ہو چکے ہیں کہ لاکھوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں، لکھی جانی چاہئیں۔جو ہم نہیں کرتے ، وہ دوسرے بھی بعض دفعہ کر دیتے ہیں۔پچھلے سال میں لندن میں تھا تو ایک دوست کسی مطبع خانہ کے ساتھ تعلق رکھنے والے تھے۔وہ میرے پاس آئے کچھ کہتا میں تحفہ لائے ، اس کمپنی کی طرف سے۔ان میں سے ایک کتاب بلال پر تھی۔”حضرت بلال“ وہ حبشی ، جس کی جلد کا ظاہر تو کالا تھا لیکن جس کے اندر سے اس قسم کا نور نکلتا تھا کہ آج شاید سارے امریکہ کے سفید فام کے نور کو اکٹھا کیا جائے تو تب بھی ایک ذرہ کے برابر نہ ہو، اس کے مقابلے میں۔اور اتنی اچھی کتاب لکھی آپ بیتی کے رنگ میں۔بلال کہتے ہیں۔بلال کہتے ہیں بھی نہیں بلکہ میں۔میں ، مجھ پر یہ واقعہ گذرا۔مجھے میرے مالک نے (غلام تھے نا اسلام سے پہلے اور پھر حضرت ابو بکر نے خریدا اور آزاد کیا) ریت پر لٹا دیا مجھے، میرے سینہ پر پتھر رکھا ، مجھے کوڑے لگائے ، میں بے ہوش ہو گیا۔اس وقت نیم بے ہوشی تھی۔کبھی میں پورا بے ہوش ہو جاتا تھا، کبھی کچھ ہوش آ جاتی تھی۔نیم ہوش۔اس وقت کوئی شخص آیا۔اس نے میرا سودا کیا اور مجھے لے گیا اپنے گھر۔اور مجھے اپنے بچے کی طرح اس نے اپنے گھر میں رکھا۔اور کہتے ہیں، اس وقت مجھے دھندلا سا یاد ہے کہ کوئی شخص میری چارپائی کے پاس مصلی بچھا کر نماز پڑھتا ہے۔کہتے ہیں، اچھا ہو جانے پر مجھے پتہ لگا کہ مجھے چھڑانے والے حضرت ابو بکر تھے اور آزاد کرنے والے تھے۔تو ان سے میں نے پوچھا میرا خیال ہے۔نیم بے ہوشی کی حالت میں مجھے شبہ پڑا۔مجھے یہ احساس ہوا کہ میرے قریب مصلی بچھا ہوا ہے۔اور کوئی شخص وہاں نفل پڑھ رہا ہے۔اس نے کہا تم نہیں جانتے کون تھاوہ؟ میں نے کہا نہیں۔انہوں نے کہاوہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ان کی دعاؤں نے 615