تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 613
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1979ء متعلق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی Out of print پہلے نایاب تھیں، اب وہ پھر طبع ہو گئیں اور آ گئیں آپ کے لئے دکانوں پر۔یا کوئی بہت ہی اعلیٰ کتاب کسی نے بڑی تحقیق کے بعد لکھی۔یا تر جے آگئے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بعض کتابوں کے یا بہت سے اقتباسات کے۔باقی جو دوسرے درجے پہ یا شاید پھر تیسرے درجے پر کتابیں ہیں، جن کا ذکر ہم کرتے ہیں یہاں، وہ ہیں ایسی کتابیں، جن کے مصنفین نے نظام جماعت احمدیہ سے تعاون کیا اور جو یہ قاعدہ بنایا گیا ہے کہ جماعت میں کوئی شخص اپنے طور پر کوئی کتاب شائع نہ کرے، کیونکہ اس طرح پر بہت سے فتنوں کے دروازے کھلتے ہیں، بلکہ نظارت تصنیف سے وہ رابطہ قائم کرے اور ان کے مشورے کے ساتھ اور ان کو اپنا مسودہ دکھانے کے بعد اور ان سے منظوری لے کر وہ کتاب کو شائع کرے، ان کے تو اشتہار بھی آنے چاہئیں الفضل میں۔ان کا ذکر بھی ہونا چاہیے ہماری تقریروں میں۔اس کے علاوہ وہ شخص، جو نظام جماعت احمدیہ سے تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں اور کہتا ہے، مجھے کیا ضرورت ہے، ان سے ملاپ کرنے کی ان سے مشورہ لینے کی، ان سے اجازت لے کے شائع کرنے کی؟ اس کو جماعت احمدیہ میں پھر کتاب بیچنے کی بھی کیا ضرورت ہے؟ وہ آتا کیوں ہے، پھر جماعت اور احمدیوں کے پاس کہ تم کتاب خرید لو؟ یہ بہت ضروری ہے۔عام لوگ شاید اس کی اہمیت کو نہ سمجھتے ہوں۔یہ بہت اہم باتوں میں سے ہے کہ ہم اس قسم کی فتوں کے دروازے بند کر دیں۔اور اگر کوئی شخص کہے کہ بعض کتا ہیں ایسی بھی چھپ سکتی ہیں، جن میں کوئی فتنے والی بات نہ ہو۔میں بحث میں نہیں پڑوں گا۔میں کہوں گا، ٹھیک ہے۔کوئی کتاب ایسی بھی چھپ سکتی ہے، نظام جماعت سے باہر نکل کر ایک احمدی مصنف کی طرف سے، جس میں فتنے کی کوئی بات نہیں۔لیکن اگر یہ دروازہ کھول دیا تو اگر پانچ کتابیں ایسی ہوں گی تو دس ایسی بھی ہوں گی، جن میں فتنے کی بات ہوگی۔اس واسطے فتنے کا دروازہ ہم نے بہر حال بند کرنا ہے۔اور ایسے مصنف کی انانیت کو بھی بہر حال ہم نے توڑنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے بعد امت مسلمہ کو واحد بنانے کا پروگرام بنایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نوع انسانی کو امت واحدہ بنا دے۔اس کے لئے بڑا مضبوط اتحاد چاہیے۔اس میں ہم سوئی کے ایک سکے کا رختہ بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔اور نہ آپ کو تیار ہونا چاہیے۔میرا دماغ تو بالکل نہیں تیار اس کو قبول کرنے کے لئے اور جو میرے پیارے بھائی اور بہنیں ہیں، مجھے یقین ہے کہ وہ بھی ہرگز تیار نہیں ہیں اس کے لئے۔ٹھیک ہے، اگر تمہارے دماغ میں کوئی اچھی بات آئی ہے، لکھوضرور اور خدمت کر و جماعت کی بھی ، بنی نوع انسان کی بھی ، لیکن صحیح راستے پر چلو۔دیواریں پھاند کے گھروں کے اندر داخل نہ ہو۔دروازے ہیں، ان کے ذریعہ سے اندر داخل ہو۔613