تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 604 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 604

خلاصه خطاب فرمودہ 28 اکتوبر 1979ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد پنجم حضور نے فرمایا کہ قرآن کریم کی تفسیر سیکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ معلم حقیقی اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتفسیر خود سکھائی ، ہمیں اس کا علم ہو۔اس لئے جماعت احمدیہ میں کثرت سے ایسے لوگ ہونے چاہئیں، جو ان کتب حدیث کو پڑھنے اور جاننے والے ہوں ، جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی تفسیر پائی جاتی ہے۔اور پھر وہ اس پیاری تفسیر کو ہر احمدی کے کان تک پہنچانے والے ہوں“۔مزید فرمایا کہ تفسیریں دو قسم کی ہیں۔ایک وہ، جو کہ خود خدا تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھائی ، دوسرے وہ ، جو اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ نور کے نتیجہ میں نبی کریم نے خود کی۔پھر فرمایا:۔یہ مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ ہر بگڑے ہوئے ماحول میں جب انسان اپنے مسائل حل کرنے میں نا کام ہو جائے تو انسان کی مدد کے لئے خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن ہی آئے گا“۔حضور نے اپنے اس عظیم پروگرام کے مادی علوم حاصل کرنے کے حصے کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ جو کہا گیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش آیات باری سے بھری ہوئی ہے، اس میں یہ حکم چھپا ہوا ہے کہ جن علوم کو دنیوی علوم کہا جاتا ہے اور جن کا تعلق ستاروں، کیمیا، طبیعات، کھانے پینے کی اشیاء اور طب سے ہے، ان میں بھی خدا کی آیات نظر آتی ہیں۔اور ان کوسیکھنا بھی ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے۔حضور نے پر شوکت لہجے میں اعلان فرمایا کہ اس لئے آج میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جماعت میری اس خواہش کا احترام کرتے ہوئے، اپنی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے، دنیا پر احسان کرنے کی خاطر اور رسول کی اطاعت کرتے ہوئے ، دنیوی علوم بھی روحانی نور کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے سیکھنے کی کوشش کرے۔اور اس دس سال میں یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ہمارا کوئی بچہ بھی میٹرک کی تعلیم سے کم کا نہ ہو۔حضور نے ارشادفرمایا کہ اس کی ذمہ داری امرائے اضلاع تنظیم انصار اللہ تنظیم خدام الاحمدیہ اور جماعت پر عائد ہوتی ہے۔604