تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 591 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 591

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم ارشادات فرمودہ 06 ستمبر 1979ء ہمارے سامنے تو مسجد نبوی کی مثال ہے کہ جس کی چھت کھجور کے تنوں اور پتوں سے ڈالی گئی تھی۔اور صحابہ ” کا کہنا ہے کہ جب بارش ہوتی اور ہم سجدہ کرتے تو ناک اور ماتھے پر کیچڑ لگ جاتی تھی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت خدا پر توکل کرتے ہوئے ، مدینہ میں ایک مسجد بنا دی تھی۔اور اس مسجد میں کئی مہینے تک دو صفیں بھی پوری نہیں ہوتی تھیں۔اس وقت اس کا احاطہ بڑا تھا مگر وہ مسجد بھی چھوٹی ہوتی گئی۔جب ہم نے مسجد اقصیٰ بنائی تھی تو لوگوں نے کہا کہ بہت بڑی بن گئی ہے۔اب اس میں سے بھی نمازی باہر نکل جاتے ہیں۔جب بھی احمدی خدا کے حضور عاجزانہ جھک کر دعائیں مانگے گا، اس کے لئے خدا کی رحمت کے سامان مہیا ہو جائیں گے، انشاء اللہ۔جماعت کی مساعی سے یورپ میں بڑا انقلاب پیدا ہوا ہے۔کسی وقت پادریوں نے سارے یورپ میں یہ کہا ہوا تھا کہ (نعوذ باللہ) اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔اس کا مطلب یہ تھا کہ اسلام کے پاس دلائل نہیں ، اسلام احسان کی طاقت نہیں رکھتا، اس کی تعلیم میں حسن اور جذب نہیں، نور نہیں ، جو سینوں کو منور کر سکے، صرف تلوار ہے۔ایک وقت میں تلوار تھی، جس سے اس کی اشاعت ہوئی، وغیرہ وغیرہ۔اپنی خلافت کے زمانہ میں جب میں پہلی دفعہ یورپ کے دورے پر گیا تو مجھ سے دو دفعہ یہ سوال پوچھا گیا کہ آپ ہمارے ملک میں کیسے اسلام پھیلائیں گے؟ اس صحافی کے پوچھنے کا مطلب یہ تھا کہ اسلام تو تلوار کے زور سے پھیلا ہے، تلوار ہم نے چھین لی، اب بتائیں کہ اسلام کس طرح پھیلائیں گے؟ میں نے کہا کہ ہم پیار سے آپ کا دل جیتیں گے۔جس طرح بجلی کا کرنٹ لگتا ہے، اس طرح وہ صحافی چونکے یہ بات سن کر۔اس پر میں نے بتایا کہ یہ ہے اسلام کی تعلیم۔اسلام کو تو سمجھتے نہیں اور اعتراض کر دیتے ہو۔ایک وہ زمانہ تھا، جبکہ 1924ء میں لندن میں مسجد بنی کہ پورے یورپ میں اسلام کے خلاف تعصب پھیلا ہوا تھا۔اب آہستہ آہستہ یہ زمانہ آ گیا ہے کہ بڑے محقق جو ہیں، ان کی اکثریت عزت سے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیتی ہے۔پہلے تو وہ اتنا گند بکتے تھے، جس کی کوئی حد نہیں۔آکسفورڈ میں جب میں پڑھتا تھا تو میں نے ایک انگریز دوست سے اسلام پر بات شروع کی اور میرا خیال تھا کہ دو، چار دفعہ اس سے اور بات کی تو اس پر اچھا اثر ہو جائے گا۔اس کے بعد اس کو کسی نے بتایا کہ پادری مارگولیٹھ کا لٹریچر پڑھو۔یہ بڑا گندہ لٹریچر ہے اور اس میں بہت گالیاں بھری ہوئی ہیں۔چنانچہ پانچ، چھ دن مجھے وہ لڑکا نہ ملا۔پھر ایک دن نظر آیا تو میں اس کے پاس گیا مگر اس نے سیدھے منہ بات ہی نہ کی۔میں نے تحقیق کی تو پتا چلا کہ اس نے مارگولیٹھ کی کتاب پڑھی ہے، جو کہ سراسر جھوٹ کا پلندہ ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ایسا ہے کہ عقلی اور منطقی طور پر اس مقام پر پہنچنے والے کسی شخص کو گالی 591