تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 42 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 42

خطبہ جمعہ فرمودہ 08 فروری 1974ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم سکتے ہیں۔ان ساری چیزوں کو سامنے رکھ کر ایک سمو یا ہوا، درمیانہ درجہ کا مطالبہ میں نفل عبادات کے سلسلہ میں اپنے بھائیوں اور اپنی بہنوں، اپنے بزرگوں اور اپنے بچوں کے سامنے اس وقت رکھنا چاہتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس منصوبہ کے لئے ، آسمان پر برکات کے حصول کے لئے جماعت کو روزے بھی رکھنے چاہئیں اور اس کے لئے میرے ذہن میں یہ تجویز آئی ہے کہ یہ جو اس منصوبہ کے کم و بیش ایک سو، اسی ماہ ہیں، ان میں ہر ماہ ایک روزہ ہر احمدی، جو روزہ رکھنے کے قابل ہے، وہ روزہ رکھے۔اس طرح قریباً ایک سو، اسی ( پندرہ سال کے اور جو ابھی دو ماہ رہتے ہیں، وہ بیچ میں شامل ہو جائیں گے۔لیکن بعض لوگوں کو اطلاع دیر سے پہنچے گی، اس لئے میں نے پندرہ سال پر ہی اپنے حساب کی بنیاد رکھی ہے۔ہر احمدی ، جو روزہ رکھ سکتا ہے اور آج بھی روزہ رکھنے کی اہمیت اور طاقت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں برکت ڈالے اور اس کی صحت میں برکت ڈالے۔آئندہ پندرہ سال تک وہ روزہ رکھنے کی طاقت پاتا رہے، ہر وہ احمد می ایک سو، اسی روزے اس نیت کے ساتھ کہ ان روزوں میں وہ اس منصوبہ کی کامیابی کے لئے یعنی غلبہ اسلام کے لئے یعنی نوع انسان کو ہلاکت سے بچانے کے لئے ، یعنی انسانیت ، جو ہمیں اس وقت خطرہ میں نظر آ رہی ہے، اس خطرہ سے اسے نکالنے کے لئے وہ یہ روزہ رکھے گا اور ان روزوں میں وہ ان تمام شرائط کوملحوظ رکھے گا، جو فرض روزوں کے متعلق اسلام نے قائم کی ہیں۔میں نے سوچا اور اندازہ لگایا کہ اگر پانچ لاکھ ایسے احمدی مرد اور عورتیں اور وہ بچے ، جو روزہ کی عمر کے قابل ہیں ، ایسے صحت مند پانچ لاکھ افرا دل جائیں تو اس منصوبہ کے زمانہ میں نو کروڑ روزے رکھے جائیں گے۔اگر آپ کی مالی قربانیاں ساڑھے چار کروڑ تک پہنچیں تو آپ اپنی مالی قربانی کے ہر روپے میں برکت کے پیدا کرنے کے لئے آپ خدا تعالی سے فی روپیہ دوروزے رکھ کر دعائیں کر رہے ہوں گے اور اگر آپ کی مالی قربانی نو کروڑ تک پہنچے توفی روپیہ آپ ایک روزہ رکھ کے آپ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کر رہے ہوں گے کہ اے خدا! یہ مال ہم تیرے حضور پیش کر رہے ہیں، اسے قبول فرما اور اپنی ساری برکتیں اس مال کے اندر ڈال دے۔کیونکہ تیرے نام کو بلند کرنے کے لئے اور تیرے پیدا کردہ انسان کو تیری طرف واپس لانے کے لئے یہ ساری مہم جاری کی گئی ہے۔پس ہر ماہ میں ایک روزہ رکھنا ہے۔میں دن کی تعین نہیں کرنا چاہتا کیونکہ دن کی تعیین روزوں میں پسندیدہ نہیں کبھی گئی۔لیکن ایک اجتماعی کیفیت بھی پیدا کرنا چاہتا ہوں، اس لئے میں نے یہ سوچا کہ میں دن کی تعیین کئے بغیر جماعت سے یہ توقع رکھوں کہ ہر ماہ کے آخری ہفتہ میں ہر شہر، گاؤں، قصبہ یا محلہ میں جیسا آپ چاہیں ایک دن مقرر کر لیا کریں۔یعنی ایک تاریخ مقرر کر لیا کریں اور اس تاریخ 42